Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 461

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈبہ کے دونوں طرف بہت بڑے شیشے لگے ہوئے تھے جس سے باہر کا منظر بالکل صاف دیکھا جاسکتا تھا۔ پورے راستہ میں دونوں طرف دور تک پھیلا ہوا سبزہ تھا اور اس کے درمیان کہیں کہیں خوبصورت مکانات۔ میری سیٹ کے قریب ایک علیحدہ اور کسی قدر کشادہ سیٹ تھی۔ یہ معذوروں کی رعایت سے بنائی گئی تھی۔ چنانچہ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا : اسٹیشن پر اترے تو وہ بالکل جدید طرز کے ہوائی اڈہ کی مانند بنا ہوا تھا۔ اگر آپ کو کسی تعاون کی ضرورت ہو تو فوراً آپ کو ریلوے کے ذمہ دار اس کے لئے تیار ملیں گے۔ میں نے سوچا کہ ہمارا لکھنے والا طبقہ برطانیہ کی جو تصویر پیش کرتا ہے وہ حقیقی برطانیہ سے کتنا زیادہ مختلف ہے۔ یہ طبقہ یہ کرتا ہے کہ اخباروں وغیرہ سے کچھ منفی پہلو لیتا ہے اور اس میں مبالغہ کے ذریعہ کچھ اور اضافہ کر کے اس کو لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے برطانیہ کی نہایت مکروہ تصویر لوگوں کے سامنے آتی ہے۔ فارسی شاعر نے کہا تھا کہ " عیب مئے جملہ بگفتنی ہنرش نیز بگو " مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ با تو صرف عیب بیان کرنا جانتے ہیں یا صرف ہنر ۔ منصفانہ کلام کی جیسے ان کے اندر صلاحیت ہی نہیں۔ برمنگھم ریلوے اسٹیشن پر جناب شمشاد حسین خاں صاحب موجود تھے۔ وہ نہایت سلجھے ہوئے آدمی ہیں اور اپنے بزنس کے ساتھ یہاں دعوت کے کام میں مشغول ہیں۔ یہاں میرا قیام انھیں کی رہائش گاہ پر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ چونکہ مغرب کا وقت قریب تھا ۔ اس لئے میں نے گھر سے چلتے ہوئے گاڑی میں مصلا رکھ لیا اور ریلوے اسٹیشن پر نماز پڑھی۔ انھوں نے کہا کہ اسٹیشن پر نماز پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ آج ہم کو پوری آزادی حاصل ہے۔ ہم جہاں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں جب کہ قدیم مکہ میں یہی کام عیاناً نہیں کیا جا سکتا تھا۔ راستہ میں انھوں نے ایک گفتگو کے دوران ایک جملہ کہا جو مجھے بہت پسند آیا۔ انھوں نے کہا : بندے کی عظمت بندگی میں ہے۔ ۲۴ ستمبر کو مغرب بعد کا وقت تھا۔ ریلوے اسٹیشن سے نکل کر میں جناب شمشاد صاحب کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوا۔ ہماری گاڑی برمنگھم کی سڑکوں سے گزر رہی تھی۔ دونوں طرف پر رونق دکانیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page