Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 462

By Maulana Wahiduddin Khan

اور دفاتر ہر رنگ روشنیوں کے ساتھ جگمگار ہے تھے۔ مگر اس ظاہری جگمگاہٹ کے پیچھے یہاں کی جو حقیقی اقتصادی حالت ہے وہ اطمینان بخش نہیں۔ صنعتی دور انسان کے لئے بہت سی خوبیاں لے آیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے ایسے مسائل بھی پیدا کر دئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ لندن کے بعد برمنگھم یہاں کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں میں نے ایک صاحب سے کہا کہ برطانیہ اس وقت ریشن کے مرحلہ سے گزر رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اتناہی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہاں ریشن (recession) آیا۔ پھرسلم (Slump) آیا۔ اور اب ہم ڈپریشن (depression) کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ان تین دوروں کو سادہ طور پر اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ ــ زیادہ خریداری، پھر کم خریداری، اور پھر بے خریداری۔ برمنگھم میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں۔ وہ یہاں کی آبادی میں تقریباً 10 فیصد ہیں۔ یہاں کی چھوٹی بڑی مسجدوں کی تعداد ۹۰ تک پہنچتی ہے۔ ایک بار برمنگھم میں سفر کرتے ہوئے ہم ایک ایسے علاقہ سے گزرے جو مسلم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ایک دکان کے سامنے ایک اشتہار لگا ہوا تھا۔ "جہاد کشمیر کانفرنس" میں نے سوچا کہ جہاد کا نفرنس کی ہر طرف دھوم ہے مگر کوئی نہیں جو کل کا نفرنس کرنے کا اہتمام کرے ۔ موجودہ زمانہ میں دنیا امن کانفرنس کر رہی ہے اور مسلمان جنگ کانفرنس۔ میں جہاں ٹھہرا ہوں وہ نہایت پر فضا علاقہ ہے۔ کھلے کھلے مکانات قرینہ کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے چاروں طرف خوبصورت لان اور وسیع پارک کے مناظر ہیں۔ میں نے اپنے میزبان سے پوچھا کہ اس علاقہ کا نام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک گاؤں ہے، اور اس کا نام ارلس وڈ (Earls wood) ہے۔ انڈیا میں گاؤں پچھڑی ہوئی بستی کا نام ہے۔ مغربی ملکوں میں گاؤں سے مراد وہ خوبصورت بستیاں ہیں جو شہروں کے باہر ہیں۔ جہاں شہری ہنگاموں کے سوا تمام جدید ترین سہولت پوری طرح موجود ہو۔ برطانیہ کے وقت میں اور انڈیا کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹے کا فرق ہے۔ یہاں میں نے عشا کی نماز پڑھی تو خیال آیا کہ عین اسی وقت اگر میں انڈیا پانچ جاؤں تو وہاں کی مسجدوں میں عصر کی نماز کی تیاری ہو رہی ہوگی۔ یعنی جس وقت یہاں رات ہے عین اسی وقت وہاں دن ہے۔ اس فرق پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page