ایک سفر
Urdu book, p. 470
By Maulana Wahiduddin Khan
ایئر پورٹ کے کسی افسر نے ان کی طرف توجہ نہ دی۔ نہ ان کی شکایت درج کی گئی اور نہ اس کا دفعیہ کیا گیا۔ ہر ایک نے مسٹر مان سنگھ کو بیرونی راستہ دکھایا۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ مسٹر مان سنگھ جرمن زبان جانتی تھیں اور اپنی شکایت کو بخوبی طور پر جرمن میں بتا سکتی تھیں۔ یہ رپورٹ خود مسٹر مان سنگھ نے چھپائی ہے۔ انھوں نے اس کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ آخر کار میں ایئر پورٹ سے نکل کر ہوائی جہاز میں داخل ہوئی۔ میں کھڑکی کی طرف اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی آنسوؤں کے ساتھ جرمنی کو الوداع کہا جس سے مجھے محبت تھی مگر اب مجھے اس سے ڈر لگ رہا تھا۔ میں نے دوبارہ بڑھا اور گاندھی کی سرزمین کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا : I sat in my window seat, bade a teary goodby to the Germany I had loved but now feared and started my journey back towards the land of Buddha and Gandhi. مسٹر مان سنگھ کا یہ نقابل درست نہیں۔ کیوں کہ جرمنی میں جو نسلی امتیاز رنگ کی بنا پر ہے وہی نسلی امتیاز انڈیا میں ذات کی بنا پر موجود ہے۔ اگر انڈیا میں بدھ اور گاندھی پیدا ہوئے تو اسی طرح جرمنی میں گوئٹے (Goethe) اور رلکے (Rilke) جیسے افراد پیدا ہوئے۔ دونوں جگہ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر موجود ہیں۔ مسٹر مان سنگھ کی غلطی یہ ہے کہ وہ جرمنی کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے "ار سلا" کی مثال لے رہی ہیں اور انڈیا کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے "گاندھی" کی مثال۔ یہ جنرلائزیشن درست نہیں۔ بیشتر غلط را ئیں اسی قسم کے غلط جنرلائزیشن سے بنتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ ملک سے ایک اچھی مثال لے کر اس کو عمومی بنا دیتے ہیں۔ اور جو ملک انھیں ناپسند ہو اس کی ایک بری مثال لے کر اس کو عموم کا درجہ دیدیتے ہیں۔ ایسے لوگ اس ملک کے بارہ میں بھی اندھیرے میں رہتے ہیں اور اُس ملک کے بارہ میں بھی۔ میں نے کچھ مسلمانوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر مغربی ملکوں میں رہنا کیوں پسند کیا۔ ہر ایک کا جواب تھا کہ یہاں کے سسٹم کی خوبی انھیں یہاں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ بعض اخلاقی برائیوں سے قطع نظر، ان ملکوں کا سسٹم بڑی حد تک معیار تنہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader