ایک سفر
Urdu book, p. 471
By Maulana Wahiduddin Khan
"نظامی ذہن کے ایک مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ اسلام کو بہتر دنیوی نظام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اس میں آج کے انسان کے لئے زیادہ کشش نہیں کیونکہ اس قسم کا نظام تو آج بھی اس کو حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ اسلامی قانون کا نفاذ اصلا دنیوی آسودگی سے نہیں ہے بلکہ اخلاقی تحفظ سے ہے۔ دنیوی آسودگی زیادہ تر انتم اعلم بامور دنیاکم سے تعلق رکھتی ہے۔ ٹرین میں ایک تعلیم یافتہ انگریز سے ملاقات ہوئی۔ وہ لندن کے مضافات میں رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کیرولین مور ہیڈ کی کتاب، برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) تھی جو ابھی حال میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب برٹرینڈ رسل کا (Caroline Moorehead) کا ایک تنقیدی مطالعہ ہے۔ مثلاً اس میں رسل کو غیر منطقی (illogical) بتایا گیا ہے۔ مجھے ان سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ ابتدائی تقریب کے بعد میں نے کہا کہ برٹرینڈ رسل کے بارہ میں مورہیڈ کی اس کتاب کو میں دیکھ چکا ہوں۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ برٹرینڈ رسل کے خیالات سے متاثر ہیں۔ خاص طور پر خدا کے وجود کے بارہ میں ان کے خیالات تقریباً وہی ہیں جو برٹرینڈ رسل کے خیالات تھے۔ انگریز اس طرح کسی اجنبی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے لیکن ایک مسافر کے لئے عام انگریز سے بات کرنے کا کوئی اور موقع پانا بھی مشکل ہے۔ اس لئے میں اپنے ایشیائی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قسم کی مداخلت کر لیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں نے برٹرینڈ رسل کو کافی پڑھا ہے۔ رسل نے لکھا ہے کہ میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔ اس کی دلیل رسل نے یہ دی ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ کائنات کو خدا نے پیدا کیا تو فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا۔ مگر رسل کا یہ اعتراض سراسر غیر منطقی ہے۔ میں نے کہا کہ رسل بلاشبہ ذہین تھا۔ مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ اس معاملہ میں اس کے لئے انتخاب باخد اکائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں ہے۔ بلکہ حقیقی انتخاب باخد اکائنات اور غیر موجود کائنات کے درمیان ہے۔ چونکہ ہم مجبور ہیں کہ کائنات کے وجود کو مانیں، اس لئے ہم اس پر بھی مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو تسلیم کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader