Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 472

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ انگریز نے ابتداً بالواسطہ انداز میں برٹرینڈ رسل کے الحادی نقطہ نظر کی حمایت کی تھی۔ مگر میری اس بات کو سن کر وہ سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کی بات قابل لحاظ معلوم ہوتی ہے، میں اس پر غور کروں گا۔ لندن میں میرا قیام پروفیسر انیس قاری کی رہائشگاہ پر تھا۔ یہاں ۶ ستمبر کو جناب جاوید حسن صاحب (5581523 Tel) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میں ایک یہودی فرم میں کام کرتا ہوں۔ وہاں ایک کٹر قسم کا یہودی تھا۔ میں جب اس کے پاس سے گزرتا تو ہمیشہ اس کو گڈ مارننگ کہتا۔ مگر وہ مجھ کو جواب نہ دیتا، بلکہ منہ پھیر لیتا۔ آخر کار ایک روز اس نے کہہ دیا کہ تم کیوں مجھ کو گڈ مارننگ کہتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں: Why you say good morning to me. You know, I hate you. اس کے جواب میں جاوید صاحب نے کہا کہ آپ کا شکریہ۔ مگر میں تو آپ سے نفرت نہیں کرتا۔ (But I do not hate you) یہ جواب سن کر یہودی تعجب میں پڑ گیا۔ اس نے کہا میں تو سمجھتا تھا کہ سارے مسلمان یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور تم بھی نفرت کرتے ہوگے، کیوں کہ میں ایک یہودی ہوں ۔ اس دن کی گفتگو کے بعد وہ کافی نرم پڑ گیا۔ یہاں تک کہ چند دن کے بعد وہ نارمل ہوگیا۔ اس کا حال یہ ہوگیا کہ جاوید صاحب کو دیکھتا تو دور ہی سے ہیلو، ہیلو کرنے لگتا۔ لوگوں کو تعجب تھا کہ اتنا کٹر یہودی ایک مسلمان سے اتنا قریب کیسے ہوگیا ۔ اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ : ایک طرفہ حسن اخلاق سے۔ لندن میں ایک اسلامیہ اسکولس ٹرسٹ (6076655-01 Tel) ہے۔ اس کی طرف سے اسلامک ٹیچنگ کورس کا ایک سٹ خصوصی اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ یہاں اس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page