ایک سفر
Urdu book, p. 578
By Maulana Wahiduddin Khan
کا انسانی ایڈیشن ہیں۔ یہی اخلاقی ماحول ہندوستان میں ۱۹۷۴ء سے پہلے تھا۔ وہاں یہ اخلاق مذہبی عمل سے بننے والی روایات کے دوران قائم ہوا تھا۔ آزادی کے بھونچال میں ہمارے یہاں یہ روایات ٹوٹ گئیں۔ اس کے بعد کوئی نیا عمل جاری نہیں ہوا، جو روایت سازی کا کام کرنے والا ہو۔ چنانچہ پورا برصغیر ہند اعلیٰ روایات سے محروم ایک خطہ بن کر رہ گیا۔ پیرس ایئرپورٹ پر ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد مجھے ملٹن ہوٹل جانا تھا جہاں ایئر انڈیا نے میرے لئے ایک کمرہ رزرو کرا دیا تھا۔ ۱۱ فروری کی شام کو مذکورہ فرانسیسی لیڈی نے کاؤنٹر کی کارروائی کے بعد مجھے ایک اور خاتون کے حوالے کیا اور کہا یہ آپ کو ایئر پورٹ سے باہر لے جاکر ٹیکسی کا انتظام کریں گی۔ یہ خاتون ایئر پورٹ کی عام خواتین سے کافی مختلف تھیں۔ انھوں نے بہت زیادہ ہمدردی کے ساتھ بقیہ مراحل طے کرائے۔ آخر وقت میں میں نے ان کا نام پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ سینہ۔ میرا خیال ہے وہ کوئی مسلم خاتون تھیں۔ اگر چہ ان کے مذہب کے بارے میں دریافت نہ کر سکا۔ ٹیکسی والا مجھ کو لے کر شہر کی طرف روانہ ہوا۔ سڑکیں نہایت عمدہ اور معیاری تھیں۔ سڑک کے دونوں طرف کے شہری مناظر نہایت گرینڈ اسکیل پر نظر آئے۔ میرا ذہن اس کا تقابل دہلی سے کر رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ پیرس کے مقابلہ میں دہلی کی شہری حیثیت ایسی ہی ہے جیسے خود دہلی کے مقابلے میں ہندوستان کے کسی چھوٹے شہر کی۔ دہلی میں مجھے بت بتایا گیا تھا کہ ملٹن ہوٹل ایئر پورٹ سے بہت قریب ہے۔ مگر کافی دیر ہو گئی اور ہوٹل ابھی تک نہیں آیا۔ ٹیکسی ڈرائیور مسلسل اپنی گاڑی دوڑائے چلا جا رہا تھا۔ میں نے اس سے انگریزی میں کہا کہ ملٹن ہوٹل تو ایئر پورٹ سے بہت قریب ہے، تم مجھ کو اتنی دور کہاں لے جا رہے ہو ۔ وہ فرنچ میں جواب دینے لگا اور بالکل وہی کیفیت پیدا ہو گئی کہ نہ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ میں نے بار بار کہا کہ انگلش۔ مگر وہ انگلش کے صرف کچھ الفاظ جانتا تھا۔ اس نے کہا: ملٹن... اور لی... تھری زی رو ... نو پرابلم... مسلم ... احمد و ... سینگال۔ میں نے اس کے الفاظ کو جوڑ کر سمجھا کہ وہ کہہ رہا ہے ________ملٹن ہوٹل اور لی میں ہے۔ وہ یہاں سے ۳ میل دور ہے۔ میں وہیں جا رہا ہوں ، کوئی فک نہ کریں۔ میں مسلمان ہوں۔ میرا نام احمد رو ہے۔ میں سینگال سے آیا ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader