ایک سفر
Urdu book, p. 596
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں معلوم ہوا کہ ایک عرب نوجوان روس (ماسکو) میں فضائی دفاع کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ وہ الرسالة مشن سے کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے طے کیا ہے کہ اس مشن کی تمام انگلیزی کتابوں کو روسی زبان میں چھپوائیں ۔ ان کی کوشش سے ایک تعلیم یافتہ روسی نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس روسی نومسلم کی مدد سے وہ اسلامی مرکز کی کتابوں کا روسی زبان میں ترجمہ کروا رہے ہیں۔ اب تک انھوں نے سترہ کتابوں کا روسی ترجمہ تیار کر لیا ہے۔ بنگلہ دیش کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو عرب میں رہتے ہیں، وہ "انسان اپنے آپ کو پہچان" کا ترجمہ بنگالی زبان میں کر کے چھپوا رہے ہیں۔ یہ کام انھوں نے بنگلہ دیش کے ایک اور مسلمان کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ ایک صاحب نے ترجمہ کیا ہے، دوسرے نے طباعت کے سلسلہ میں مالیاتی مدد کی ہے۔ ایک صاحب نے ایک عربی مثل بتائی: اذا اردت ان تنحج كل و وكل۔ اس مثل میں وکلی کا لفظ فصیح عربی نہیں ہے بلکہ دارجہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو خود کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ یعنی لا تأكل وحدك افروزی کو درس کا موضوع تھا: مہمات من قواعد الاسلام۔ آج الاستاذ محمد النجیب بلخوجہ نے درس دیا۔ انھوں نے اپنے درس کی بنیاد اس حدیث پر رکھی : الطهور شطر الایمان والحمد لله تملأ الميزان وسبحان الله والحمد لله تملأ ما بين السماوات والارض والصلاة نور و الصدقة برهان والصبر ضياء والقرآن حجة لك او عليك كل الناس يغدو و نبائع نفسه فمعتقها اوموبقها یہ حدیث جس کو امام مسلم نے کتاب الطهارات (باب فضل الوضوء) میں نقل کیا ہے، اس میں صبر کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ اہل ایمان کے لئے روشنی ہے۔ گویا کہ صبر ایک انتہائی اعلیٰ درجہ کا مثبت رویہ ہے جو آنکھ کھولنے والا اور راستہ کو صاف کہنے والا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بات کتنی زیادہ غلط ہوگی کہ صبر کو ایک سلبی رویہ یا مجبورانہ خاموشی کے ہم معنی سمجھ لیا جائے ۔ آج درس سے پہلے وزارة الاوقاف کے ہال میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے علماء جمع ہوئے۔ اور کل کے درس پر مناقشہ ہوا۔ سب سے پہلے کل کی تقریر اور مجلس کا پورا ٹائپ وی سی آر پر دکھایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader