Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 597

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا تاکہ اصل بحث لوگوں کے ذہن میں تازہ ہو جائے۔ جو واقعہ میں نے کل دیکھا اور سنا تھا، آج ٹھیک اسی طرح اس کو مشینی سطح پر دہرایا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھے قرآن کی آیت وهو يبدئ ويعيد. یاد آئی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ عملی مشاہدہ بن کر آنکھوں کے سامنے آگئی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ نسخ کی چار قسمیں ہیں: نسخ التلاوة والحكم، نسخ التلاوة و بقاء الحكم، نسخ الحكم وبقاء التلاوة، نسخ الكتاب بالسنة ونسخ السنة بالكتاب ۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن میں تقریباً ۲۰ نسخ ثابت ہوتے ہیں مگر افسوس ہے کہ علماء نے اس میں وسعت دی اور اس کی تعداد کو پانچ سو تک پہنچا دیا۔ (ان العلداء مع الاسف الشديد، توسعو ا فى الناسخ والمنسوخ) کسی نے کہا نسخ صرف فرع میں ہے، اصل میں نہیں۔ اسی لئے نسخ کی آیتیں مدینہ میں اتریں، مکہ میں نسخ کی آیتیں نہیں اتریں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن اترنے کے بعد اور رسول اللہ کی وفات کے بعد اب کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی حکم کو ناسخ یا منسوخ قرار دے۔ وغیرہ میں نے کہا کہ نسخ کے معاملہ کو محض کچھ آیتوں یا حدیثوں کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ نسخ ایک اصول (مبدأ) ہے نہ کہ محض کچھ آیتوں کی تفسیر کا مسئلہ۔ اگر آپ نسخ کو صرف کچھ آیتوں سے جوڑ دیں تو وہ انھیں آیتوں تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ مگر اس کو اصول شریعیت ماننے کی صورت میں وہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یہ در اصل عملی حالات کی رعایت کا مسئلہ ہے اور اس اعتبار سے وہ ایک حکیمانہ اصول کے طور پر ہمیشہ باقی رہے گا۔ مذکورہ آیتوں کی حیثیت اس معاملہ میں علامتی نمونہ کی ہے۔ یہ آیتیں برائے توضیح ہیں نہ کہ برائے تعیین۔ اس سفر میں حسب معمول میں اپنے ساتھ کوئی کتاب یا الرسالہ کا کوئی شمارہ نہیں لے گیا تھا۔ رباط پہنچا اور وہاں آنے والے علما سے ملاقاتیں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اکثر لوگ الاسلام متحدسی کا کا مطالعہ کئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اکثر لوگوں نے مزید عربی کتابوں کا مطالبہ کیا۔ اتفاق سے ایک نو جو ان سید صالح الشوكات) قاہرہ سے آگئے تھے۔ وہ میری آمد کی خبر سن کر مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے کیوں کہ یہاں کے نظام کے مطابق الدروس الحسنیہ کا پروگرام ہر روز ساتھ ساتھ ٹی وی پر نشر کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page