Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 598

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتا ہے جو پوری عرب دنیا میں دیکھا جاتا ہے۔ وہ عربی کتابوں کا ایک بنڈل بھی اپنے ساتھ لائے تھے جو طاہرہ سے چھپی ہیں۔ یہ کتابیں یہاں کے بہت سے لوگوں کو دی گئیں۔ چندہ نام یہ ہیں : الملك المغربي الحسن الثانی ، الاستاذ عبد الكبير العلوی المدغری (وزیر الاوقاف والشؤون الاسلامیہ)، محمد الكبير العلوی (مدير وزارة الاوقاف)، دكتور ابراهيم السيد الرفاعی (چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف جیالوجی، کویت یونیورسٹی)، الشيخ طه الولی (لبنان)، دكتور محمد يعقوبي خبير (فاس، المغرب)، دكتور عبد الرحيم برقيه (رباط)، عبد السلام ادريمی (ٹوکیو)، الحاج عبد الله المشری (موریتانیہ)، دكتور محمد السليماني (الجزائر)، وغيره ۱۸ فروری کو الاستاذ احمد الغازی الحسینی (استاذ کرسی التوحيد بجامع القرويين بفاس) کا درس تھا۔ اس کا عنوان تھا : مجامع مكارم الاخلاق۔ اپنے درس کے لئے انھوں نے اس آیت کو منتخب کیا : خذ العفو و أمر بالعرف و اعرض عن الجاهلين۔ و اما ينزغنك من الشيطن نزغ فاستعذ بالله انه سميع عليم (الاعراف ۲۰۰) درس زیادہ تر نحوی اور فنی انداز میں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت میں اہم نکتہ یہ ہے کہ عفو اور اعراض کا حکم دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تمہارے دل میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو تم اس کے بارہ میں اللہ سے پناہ مانگو۔ اس سیاق میں شیطانی وسوسہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی ایسا فعل کرتا ہے جس کے بارہ میں اللہ نے عفو اور اعراض کا حکم دیا ہے اور اس وقت تمہارے دل میں انتقامی جذبہ آجاتا ہے یا وتار کا سوال تم کو اس سے روہنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو اس قسم کے جذبات و احساسات کو تم شیطانی وسوسہ سمجھو۔ تم کو چاہئے کہ غصہ اور انتقام کے جذبہ کو دباؤ اور وتار کے سوال کو اس طرح کے سلوک میں رکاوٹ نہ بننے دو۔ انسانی نہ یادتی کو اللہ کے خانہ میں ڈالتے ہوئے ہر حال میں عفو اور اعراض کے مسلک پر قائم رہو۔ ۱۹ فروری کو جمعہ کا دن تھا۔ دروس حسنبیہ کے شرکاء کاروں پر رباط سے الدار البیضاء لے جائے گئے۔ یہ سو کلومیٹر کا راستہ تھا جو ڈیڑھ گھنٹہ میں طے ہوا۔ میں نے سنا اور پڑھا تھا کہ الدار البیضاء کی مسجد حسن ثانی حرمین کے بعد دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ واقعہ وہ ایسی ہی نظر آئی۔ بہت بڑی اور بہت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے۔ سمندر اٹلانٹک کے عین کنارے ہونے کی وجہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page