ایک سفر
Urdu book, p. 599
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی خوبصورتی میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔ نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ صف کے آگے مسلسل جوتوں کی قطار نظر آئی۔ لوگ زور زور سے قرآن پڑھ رہے تھے اس لئے مسجد کے اندر آواز کافی گونج رہی تھی۔ نمازیوں کو قرآن برائے تلاوت تقسیم کیا جا رہا تھا۔ مجھ کو بھی ایک مجلد قرآن دیا گیا۔ اس کو کھولا تو اندازہ ہوا کہ اس کے انداز تحریر کی وجہ سے اس کو پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ آخر میں دیکھا تو ” وفقا للخط العثمانی “ لکھا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ یہاں کے لوگ اس کے عادی ہوں مگر عام مسلمانوں کے لئے اس کے ذریعہ تلاوت کرنا آسان نہیں۔ مغربی لہجے میں لاؤڈ اسپیکر پر قرآن پڑھا جا رہا تھا۔ یہ بھی ہم لوگوں کے لہجے سے بہت مختلف تھا اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ لہجوں کا فرق کیوں واقع ہوتا ہے۔ قرآن ابتدا قریش کے لہجہ پر اترا۔ اس کے بعد وہ پھیلا یہاں تک کہ دور دور کے علاقوں میں پہنچ گیا۔ یہ لوگ اپنے اپنے لہجے میں اپنی زبان بولتے تھے۔ اب انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب قرآن پڑھا تو اس کو انھوں نے اپنے لہجہ میں پڑھا۔ ہر ایک اپنے مقامی لہجہ میں قرآن کے عربی الفاظ دہرانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مسلم قوموں کا مکتوب قرآن اگر چہ ایک ہے۔ مگر اس کو پڑھنے کے لئے ہر ایک کا لہجہ الگ الگ ہو گیا ہے۔ مسجد الحسن الثانی ( الدار البيضاء ) کے تعارف کے لئے جو تصویر کتاب چھاپی گئی ہے، اس کے آغاز میں یہ آیت درج ہے : وکان عرشہ على الماء ( ہود ۷ ) اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم مسجد پانی کے اوپر بنائی گئی ہے۔ یعنی سمندر ( اٹلانٹک ) کے ساحل پر ہے اور پانی کو پاٹ کر اور اس کے اوپر ستون قائم کر کے اس کو تعمیر کیا گیا ہے۔ الملک الحسن الثانی ، جن کو صوفی بادشاہ کہا جاتا ہے انھوں نے ۸ جولائی ۱۹۸۸ کو مسجد کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے اس کی مصلحت ان الفاظ میں بیان کی تھی : أردتُ أن أبنئ هذا المسجد على الماء ( وکان عرشه على الماء ) كما اردت ان يكون المصلى فيه والداعى والذاكر والشاكر والراكع والساجد محمولا على الارض ولكن اينا نظر يجد سماء و بحر ربه۔ ۸ فروری کو افطار کا انتظام ایک وزیر کی رہائش گاہ پر تھا۔ جس ہوٹل میں ہم لوگوں کا قیام ہے وہ ایک امریکی ہوٹل ہے۔ وہاں کھانے کا انتظام زیادہ تر مغربی انداز کا ہے۔ وزیر صاحب کا معاملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader