ایک سفر
Urdu book, p. 600
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے مختلف تھا۔ وہاں وہ انداز تھا جو عرب رؤسا کے یہاں رمضان کی دعوت میں اختیار کیا جاتا ہے۔ پہلے انواع واقسام کی چیزوں کے ساتھ افطار کرایا گیا۔ پھر مغرب کی نماز ہوئی۔ اس کے بعد تمام لوگ ایک بڑے کمرہ میں جمع ہوئے۔ یہاں دیر تک قرآن کی قرأت کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو گیا اور عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ اس کے بعد تمام لوگ کھانے کے کمرہ میں آئے، جہاں دوبارہ قسم قسم کے کھانوں سے میز بھرا ہوا تھا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک کھانے پینے کا دور جاری رہا۔ یہ سلسلہ سوا چھ بجے افطار سے شروع ہوا تھا۔ جب ہم لوگ واپس لوٹے تو گھڑی میں ساڑھے آٹھ بج چکے تھے۔ لوگ خوش ہو کر کھا رہے تھے مگر میں غم سے نڈھال ہو رہا تھا۔ مجھے اس قسم کی دعوتوں سے کوئی رغبت نہیں۔ وہ چیز جس کو پر تکلف دعوت کہا جاتا ہے وہ میرے لئے صرف پر تکلیف دعوت ہے۔ مجھے سادہ اور مختصر کھانا پسند ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں بہت کم لوگ ہیں جو اس قسم کی دعوت کریں ، اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اس قسم کی دعوت کو دل سے پسند کریں۔ ٹوکیو سے جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے نمائندہ عبد السلام اریمی آئے تھے۔ وہ ایک نو مسلم نوجوان ہیں۔ انھوں نے اپنا قدیم نام جیرواریمی (Jiro Arimi) بتایا۔ ان سے معلوم ہوا کہ جاپان کے مسلمان انوکھے قسم کے مسائل سے دوچار ہیں جن سے ہم لوگ اپنے ملک میں واقف نہیں۔ مثلاً تدفین کا مسئلہ۔ قبر کی معروف تدفین جاپان میں غیر قانونی ہے۔ تدفین کے لئے لاش کو مخصوص قسم کے تابوت میں بند کرنا ضروری ہے جو بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اس کام کو بھی کوئی رجسٹر ڈ ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ ابھی تک ان کے پاس کوئی باقاعده مقبره نہیں۔ ہندوستان میں مقامی کرنسی کے مقابلہ میں ڈالر کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ مگر جاپان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جاپان مسلم اسوسی ایشن کو رابطہ العالم الاسلامی (مکہ) کی طرف سے مالی تعاون ملتا ہے جو ڈارلر کی صورت میں ہوتا ہے۔ مگر اس وقت یہ صورتحال ہے کہ جب وہ اس تعاون کو جاپانی سکہ میں تبدیل کرتے ہیں تو وہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ ین کے مقابلہ میں امریکی ڈالر کی شرح گھٹ گئی ہے۔ انھوں نے کہا: و بما ان الدعم المادی تقدمه رابطة العالم الاسلامی يُرسل بالد ولا ر فانه تأثر كثيراً بارتفاع قيمة الين الياباني ۔ وهكذا فهو بقدر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader