ایک سفر
Urdu book, p. 601
By Maulana Wahiduddin Khan
حاليا بعشرة آلاف بن يابانی فقط شهريا۔ 19 فروری کو الاستاذ طه الولى (لبنان) کا درس تھا۔ موضوع تھا: المسجد ودور فی حضارة الاسلام وتراث المسلمين۔ انھوں نے اپنے درس کے لئے اس آیت کو بنیاد بنایا: انما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر واقام الصلاة و آتی الزكوة ولم يخش الا الله فعسى اولئك ان يكونوا من المهتدين (التوبة) مسجد کے بارہ میں انھوں نے مختلف تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ گستا ولی بان نے لکھا ہے کہ مسجد مسلمانوں کے لئے مرکز حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بات یقیناً درست ہے۔ مگر اکثر لوگ مرکز حیات کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد کے اندر ہر قسم کی سرگرمیاں جاری ہوں۔ حتیٰ کہ مسجد کے اندر قید خانہ بھی موجود ہو۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام ظاہری نوعیت کی چیزیں ہیں۔ مسجد اصلاح خشیت الہی کی تربیت کا مرکز ہے۔ مسجد سے لوگوں کو سب سے زیادہ جو چیز ملنی چاہئے وہ یہی خشیت اور تقویٰ کی غذا ہے۔ دکتور ابر اہیم الرفاعی نہایت سلجھے ہوئے ذہن کے آدمی ہیں۔ انھوں نے مغربی دنیا اور مسلم دنیا کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے لوگوں کی طاقت یہ ہے کہ وہ تنقید کو برداشت کرتے ہیں۔ ان کو ان کی غلطی بتائی جائے تو وہ اس کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تنقید کو سننے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے (هم يعترفون بخطاياهم ونحن لا نعترف بخطايا نا) یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کے امکانات کے باوجود مسلم دنیا خائب و خاسر بنی ہوئی ہے۔ رباط سے ایک عربی اخبار اخبار العلم (جاری شدہ ۴۶ 19) نکلتا ہے۔ یہ حزب الاستقلال کا ترجمان ہے۔ اس کا شمارہ 19 فروری 1994ء دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ چھپی ہوئی تھی جس کا عنوان تھا ــــــــ مصر : حرب بين السلطة والاسلاميين۔ یعنی مصر میں ارباب اقتدار اور اسلام پسندوں کے درمیان جنگ۔ ایک اور خبر میں بتایا گیا تھا کہ حکومت الجزائر نے پاکستان اور ایران پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ الجزائر کے اسلام پسندوں کو مسلح کر رہے ہیں (الجزائر: اتهام باكستان وايران بتسليح الاسلاميين ) میں سمجھتا ہوں کہ جو مسلمان نفاذ اسلام کے نام پر حکمرا نوں سے مسلح جنگ چھیڑے ہوئے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader