ایک سفر
Urdu book, p. 608
By Maulana Wahiduddin Khan
جو پیغمبر کی معنوی تعریف میں ہے۔ یہ ایک برطانوی مستشرق ای اسی کیلیٹ کی منثور نعت ہے۔ کم از کم اپنے بارہ میں میں کہہ سکتا ہوں کہ اردو، فارسی، عربی میں نعتیہ اشعار کا جو ذخیرہ ہے، یہ نعت ان سب پر بھاری ہے۔ یہ منثور نعت انگریزی میں ہے، اس کا عربی ترجمہ یہ ہے: محمد و آجه الصعوبات بعزم ان يعصر الفوز من الفشل۔ ایک مجلس میں ایک عرب عالم نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ہمارے درمیان عز الدین عبد السلام جیسے علماء موجود نہیں جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ : (اذا خرج خرجت الامة كلها رجب وہ نکلے تو پوری امت ان کے ساتھ نکل پڑی) میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ آج بھی ہمارے یہاں بہت سے علماء پیدا ہوئے۔ مثلاً حسن البنا ۱۹۲۸ میں یہ کہہ کر اٹھے کہ لبيك يا فلسطين توان کے ساتھ مصری قوم سڑکوں پر نکل آئی۔ انڈونیا میں مولانا محمد علی جو ہر نے خلافت کا نعرہ لگایا تو تمام مسلمان ان کے پیچھے چل پڑے۔ الجزائر میں کچھ علماء نے استعمار سے آزادی کا نعرہ دیا تو لاکھوں لوگ گولی کھانے کے لئے تیار ہو گئے۔ وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں جب کوئی عالم ایک کام کے لئے اٹھا تو اس کے عمل کا نتیجہ برآمد ہوا۔ موجودہ زمانہ میں جو علماء اٹھے ان کی کوششیں مکمل طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ لوگوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ نتیجہ عالم کے فقدان کو خود عالم کے فقدان پر محمول کر رہے ہیں۔ حالانکہ جو چیز مفقود ہے وہ نتیجہ عالم ہے نہ کہ عالم۔ ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے اپنا نام العمرانی بتایا۔ وہ مراکور ریڈیو کے دفتر سے بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ روزانہ ہم ریڈیو پر آپ کی ٹاک رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ رمضان کے آخر مہینہ تک میں یہاں رہوں گا۔ میں نے معذرت کی۔ میں نے کہا کہ اب تو میرا جانے کا وقت آگیا ہے۔ اب میں آپ کی فرمائش پوری نہیں کر سکتا۔ ۲۳ فروری کو کوئی پروگرام نہیں تھا۔ سارے دن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ ملاقاتیں زیادہ تر عرب نوجوانوں سے ہوئیں۔ ایک نوجوان نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے مسائل ومشکلات کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ حالات کو دوسرے لوگ مشکلات کا نام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader