ایک سفر
Urdu book, p. 615
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر زبان میں ایک مقام اور دوسرے مقام کے لہجے میں فرق ہوتا ہے۔ یہی معاملہ عربی زبان کا بھی ہے۔ مرا کو مغربی سمت میں عرب دنیا کا بعید ترین ملک ہے۔ چنانچہ یہاں آتے آتے لہجہ کا فرق آخری حد تک مختلف ہو گیا ہے۔ یہاں کے علما اہم لوگوں سے فصیح زبان میں بولتے تھے۔ اس لئے ان کی بات تو بخوبی سمجھ میں آتی تھی۔ مگر عوام کی بولی سمجھنا میرے لئے سخت مشکل تھا۔ عوام کی سطح پر یہاں کا عربی لہجہ اتنا زیادہ مختلف ہے کہ جب ایک شخص بولتا ہے اگر چہ وہ عربی بول رہا ہوتا ہے مگر کتابی عربی جاننے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی غیر زبان بول رہا ہے۔ مثلاً میرے ساتھ جو سائق تھا، اس نے اپنا نام لب دوی محمد بتایا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ لب دوی اصل میں البدوی ہے۔ سائق جب کچھ کہتا تو مشکل سے اس کا کوئی لفظ میری سمجھ میں آتا۔ میں صرف اندازہ سے سمجھتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ مثلاً ایک بار جب مجھے درس میں شرکت کے لئے شاہی قصر میں جانا تھا، میں نے ایک صاحب کی بابت پوچھا۔ سائق (ڈرائیور) نے کہا: ماش کافی سوچنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ وہ کہہ رہا ہے: مشتی یعنی وہ چلے گئے۔ یہ قرآن کی طاقت تھی جس نے عربی زبان کو سابقہ حالت پر باقی رکھا۔ ورنہ اب تک عربی زبان بگڑ کر کچھ سے کچھ ہوگئی ہوتی۔ بلکہ لہجوں میں تقسیم ہوتے ہوتے وہ کئی الگ الگ زبان کی صورت اختیار کر لیتی۔ کیسا بلانکا سے آنے والے جہاز نے مجھ کو اورلی (مقامی ایرپورٹ) پر اتارا تھا۔ اس کے بعد مجھ کو چارلس ڈیگال (انٹرنیشنل ایرپورٹ) پر جانا تھا۔ دونوں ایرپورٹ کے درمیان کافی فاصلہ ہے. تا ہم ایئر فرانس کی طرف سے ہر وقت بس آتی جاتی رہتی ہے۔ ایرپورٹ کے باہر آ کر میں نے یہ بس پکڑی اور اس کے بعد چارلس ڈیگال ایرپورٹ آگیا۔ یہاں سے ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۴۸ کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ پیرس سے دہلی تک ۲۹۵ کلومیٹر کا سفر تقریباً آٹھ گھنٹہ میں طے ہوا۔ پیرس ایرپورٹ پر فرانسی پولیس نے میرا پاسپورٹ لے لیا اور مجھ کو انٹروگیشن کے کمرہ میں لے گئی۔ وہاں پہنچا تو ایک اور داڑھی والے مسلمان کو پولیس نے بٹھا رکھا تھا۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مرا کو کے بن حماد مولا می عمر ہیں جو کہ کلیتہ الآداب والعلوم الانسانیہ (المحمدیہ) میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader