Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 616

By Maulana Wahiduddin Khan

استاد ہیں۔ تعارف کے بعد وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس الاسلام تنجیدی کے دو نسخے ہیں۔ میں نے اس کو بار بار پڑھا ہے اور اپنی تقریروں میں اس سے بہت کام لیتا ہوں۔ فرانسیسی پولیس نے میری ایک ایک چیز کی نہایت مکمل جانچ کی۔ اور درینہ تک مجھے ایئر پورٹ پر روکے رکھا۔ مذکورہ مراکشی عالم سے میں نے پوچھا کہ آخر یہ لوگ اتنی سخت جانچ کیوں کر رہے ہیں۔ پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ خود اپنے کچھ لوگوں کی نادانی کے نتیجہ میں ایسا پیش آیا ہے۔ کچھ مسلمان ان کے ملکوں میں تخریبی کارروائی کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو وہ مشتبہ سمجھ لیتے ہیں۔ ہم اسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں (نحن نؤدى الثمن)۔ پیرس سے دہلی کے راستہ میں مختلف پرچے دیکھے۔ الشرق الاوسط (۲۵ فروری) میں صفحہ پر ایک مضمون کا عنوان تھا : الآخرون تعلموا من مصائبنا، فمتى نتعلم (دوسروں نے ہماری مصیبتوں سے سبق لیا، پھر ہم کب سبق لیں گے)، اسی طرح ادارتی نوٹ کا عنوان ان لفظوں میں تھا: 1 العرب الباردة وهباً تھا الساخنة (سرد جنگ اور اس کے گرم جھونکے)۔ اس کو پڑھ کر خیال آیا کہ آجکل ہر مسلم اخبار ، خواہ وہ کسی زبان میں ہو، اسی قسم کی شکایتی باتوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم صحافت فریاد اور احتجاج کی صحافت بن کر رہ گئی ہے۔ یہ پیرس سے دہلی تک کی نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ تقریبا آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ۲۶ فروری ۱۹۹۴ کی صبح کو جہاز دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ جہاز سے باہر آیا تو کسٹم کے ہال میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اپنے بھاری سامانلوں کے ساتھ مختلف کھڑکیوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ میرے ساتھ دستی بیگ کے سوا کوئی سامان نہ تھا۔ چنانچہ میں کسی حساب کتاب کے بغیر چلتا ہوا ایئر پورٹ کے باہر آگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page