Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 617

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر اٹلی کی راجدھانی روم ہے۔ مگر وہاں کا سب سے بڑا شہر میلان (Milan) ہے۔ اس کو اطالوی زبان میں میلانو کہا جاتا ہے۔ یہاں ستمبر ۱۹۹۳ میں انٹرنیشنل سطح کی ایک مذہبی کانفرنس ہوئی۔ اس سلسلہ میں اٹلی اور انگلینڈ کا سفر ہوا۔ اس کا دعوت نامہ ۱۰ ماہ پہلے نومبر ۱۹۹۲ میں مجھے مل گیا تھا۔ اس کے بعد کاغزات موصول ہوتے رہے۔ سفر پر روانہ ہونے سے کافی پہلے کانفرنس کی پوری تفصیل مجھے دہلی میں مل چکی تھی۔ یہ موجودہ زمانہ میں مواصلات (communications) کے جدید ذرائع کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ جدید مواصلات نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی ایک مقام پر بیٹھا کر سارے عالم میں اشاعت افکار کی مہم چلا سکے۔ قدیم نو آباد یاتی نظام کی علامت اگر ٹیلیکراف ایک پیغام رسانی تھی تو جدید نو آبادیاتی نظام کی علامت الیکٹرانک پیغام رسانی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ نہ قدیم مواصلاتی دور میں اس کو حقیقی طور پر دعوت کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکا اور نہ جدید مواصلاتی دور میں اس کو دعوت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں دعوتی شعور سرے سے موجود ہی نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما خلافت ارضی اور قیادت عالمی کے حصول کو دعوت سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ یہ محض سیاسی ہنگامہ آرائی ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔ ستمبر ۱۹۹۳ کی ۱۸ تاریخ شروع ہوئی تو گاڑی مجھ کو لئے ہوئے تیزی سے دہلی ایئر پورٹ کی طرف جارہی تھی۔ آج مجھے دہلی سے اٹلی جانا تھا۔ وہاں چند دن قیام کر کے ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کرنا تھا۔ اس کے بعد مزید سفر کر کے انگلینڈ جانا تھا۔ وہاں دوبارہ چند شہروں میں خطاب اور ملاقات کے پروگرام تھے۔ ان سے فارغ ہو کر مجھے دہلی واپس آنا تھا۔ اس سفر کی روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ ۱۸ ستمبر کو صبح تین بجے میں دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ مختلف قسم کے لوگ اپنے اپنے سامان کے ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ چلتے ہوئے ، کچھ بیٹھے ہوئے۔ اچانک ایک سوال میرے ذہن میں آیا "یہ مختلف قومیتوں کے اور مختلف مذمہوں کے لوگ یہاں لڑتے کیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page