ایک سفر
Urdu book, p. 618
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں“۔ یہ سوال عجیب تھا اور غیر متعلق بھی۔ مگر اس سوال نے ایک اہم حقیقت مجھ پر واضح کر دی۔ اس پر غور کرتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ اس کی وجہ ذاتی مشغولیت ہے۔ ہر شخص اپنے مسائل اور اپنے انٹرسٹ میں اتنا زیادہ گم ہے کہ کسی کو دوسرے سے الجھنے کا موقع نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ باہمی لڑائی کے خلاف قدرت کا ایک طاقت ور چیک ہے، اس طرح قدرت نے ہر ایک کو اپنی ذات میں اتنا زیادہ گم کر دیا ہے کہ اگر اس کو چھیڑا نہ جائے تو کبھی دنگا اور فساد کی نوبت نہ آئے۔ میں ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھی ایئر پورٹ ٹیکس ادا کرنے چلے گئے۔ کیوں کہ ایئر پورٹ ٹیکس کی ادائیگی کی رسید حاصل کئے بغیر بورڈنگ پاس نہیں مل سکتا تھا۔ دو آدمی کے لئے چھ سو روپیہ ایئر پورٹ ٹیکس ادا کیا گیا۔ یہ ایئر پورٹ ٹیکس سب کو دینا پڑتا ہے۔ صرف حاجیوں کے لئے یہ سفر ٹیکس معاف ہے ۔ سیکولر ملک میں بھی کیسی کیسی غیر سیکولر نعمتیں مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ بورڈنگ کارڈ اور دوسرے مراحل سے گزر کر چیکنگ کا کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں بیٹھے ہوئے آدمی نے میرا پاسپورٹ دیکھتے ہوئے پوچھا : آپ آٹھویں ہیں۔ ہاں۔ کیا ناول لکھتے ہیں۔ نہیں، میرا موضوع نان فکشن ہے۔ اس طرح کے مختصر سوال و جواب کے بعد آگے بڑھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ عام انسان کے نزدیک کتاب سے مراد بس ناول یا افسانہ ہے۔ کیوں کہ لوگوں کے نزدیک زندگی کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہے۔ کتاب وغیرہ کو وہ صرف تفریح کی چیز سمجھتے ہیں۔ اور تفریح ناول افسانہ سے ہوتی ہے نہ کہ سنجیدہ کتابوں کے مطالعہ سے۔ کتاب یا مطالعہ کا مقصد شعور کا ارتقا تھا ۔ مگر آج وہ بس وقتی تفریح کا سامان بن کر رہ گیا ہے۔ دہلی ایئر پورٹ پر انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایئر پورٹ کا ایک آدمی آیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں واکی ٹاکی تھی اور دوسرے ہاتھ میں چوڑا ٹیپ۔ اس نے بلند آواز سے پکارا : پنچرا راجندر سنگھ۔ مسافر اٹھا تو اس نے کہا کہ آپ کا ایک سامان ڈیلیج (damage) ہو گیا ہے۔ چل کر اس کو پہچان کر لیں۔ پہچان کرانے کے بعد اس نے اپنا ٹیپ کھولا اور اس کو چاروں طرف سے لگا کر ان کے بنڈل کو خوب مضبوط کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader