Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 619

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ منظر دیکھ کر میرا جی بھر آیا۔ با چشم گریہ میں نے کہا: خدایا، اس مسافر کا تو ایک سامان ڈیمیج ہوا تھا اور تلاش کرنے والے نے تلاش کر کے اس کو درست کر دیا۔ میرا تو سب کچھ ڈیمیج ہو چکا ہے، حتیٰ کہ اس عمر کو پہنچ کر آپ کا دیا ہوا جسم بھی اب ڈیمیج ہو گیا۔ خدایا، تو اپنے فرشتوں کو بھیج دے جو تیری قدرت کی ”ٹیپ“ کے ذریعہ میرے تمام ڈیمیجز کو درست کر دیں۔ دہلی سے روم کے لئے ایئر انڈیا کی فلائٹ اے کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ایئر انڈیا کی میگزین نمسکار (ستمبر ۔ اکتوبر ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا برٹش راج کا تاج: The Taj of the Raj یہ مضمون کلکتہ کی ۷۲ سالہ بلڈنگ وکٹوریہ میموریل کے بارہ میں تھا۔ بتایا گیا تھا کہ ۱۹۰۱ء میں جب کوئین وکٹوریہ کا انتقال ہوا اس وقت لارڈ کرزن انڈیا میں برٹش وائسرائے تھے۔ انھوں نے تجویز کی کہ کوئین کی ایک یادگار کلکتہ میں قائم کی جائے۔ اس وقت کلکتہ یہاں کی راجدھانی تھا۔ اس کے مطابق کلکتہ کا وکٹوریہ میموریل ہال تعمیر کیا گیا۔ مضمون میں اس کے مختلف پہلوؤں کا تعارف کراتے ہوئے آخر میں یہ جملہ درج تھا کہ اس سال جب کہ میموریل اپنی ۷۲ سالہ تقریب منارہا ہے، وہ ماضی کی ایک شاندار یادگار کے طور پر اب بھی باقی ہے، ایک ماضی جو نا قابلِ انقطاع طور پر حال سے جڑا ہوا ہے: it remains quintessentially a majestic testimony to the past — a past that is inexorably linked to the present. (36) یہ خوبصورت جملہ صرف آدھے معنیٰ میں درست ہے۔ عمارت کے اعتبار سے وہ ماضی سے حال تک جڑا ہوا ہے۔ مگر جس راج کے نام پر یہ عمارت بنائی گئی تھی وہ راج ۱۹۴۷ء میں ختم ہو گیا۔ جو لوگ اس فرق کو نہ سمجھیں اور عمارت کے اوپر سیاست کو قیاس کر کے ماضی کے راج کو حال تک وسیع کرنا چاہیں وہ ملے ہوئے حال کو بھی برباد کر دیں گے۔ یہ فلائٹ براہِ راست دہلی سے روم کے لئے تھی۔ دونوں کے درمیان مسافت ۶۳۸۵ کلو میٹر ہے۔ یہ سفر پورے آٹھ گھنٹہ میں طے ہوا۔ کچھ وقت سونے میں گزرا اور کچھ وقت پڑھنے میں۔ یہاں تک کہ جہاز پر سکون طور پر روم کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page