ایک سفر
Urdu book, p. 620
By Maulana Wahiduddin Khan
روم کے بارہ میں ایک دلچسپ خبر نظر سے گزری۔ ایک اطالوی اخبار (PAESE SERA) کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اٹلی کے دار السلطنت کو پندرہ ملین چوہے کتر رہے ہیں : The capital of Italy is now being gnawed away by some 15 million rats. خبر میں کہا گیا تھا کہ چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس ابدی شہر (Eternal city) کے لئے زبر دست خطرہ بن گئی ہے۔ کبھی ٹیلیفون کام نہیں کرتا اور تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ چوہے نے لائن کاٹ دی ہے۔ کبھی بجلی فیل ہو جاتی ہے اور اس کا سبب چوہے ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ابھی تک اس مسئلہ کا کوئی مؤثر حل دریافت نہیں کیا جا سکا ہے ـــــ مہلک گیس چھڑک کر تمام چوہوں کو مارا جا سکتا ہے۔ مگر چوہوں کا یہ خاتمہ اس قیمت پر ہوگا کہ اسی کے ساتھ انسان بھی ختم ہو چکے ہوں ـــــ وہ روم جو انسانی فوجوں کے لئے نا قابل تسخیر سمجھا جاتا تھا، وہ چوہے کی فوج کا مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے۔ مہاتما گاندھی ایک سفر کے دوران دسمبر ۱۹۳۱ میں روم آئے تھے۔ انھوں نے پوپ اور موسولینی دونوں سے ملاقات کی کوشش کی۔ ان کے سوانح نگار مسٹر لوئی فشر نے اپنی ۵۰ صفحہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ پوپ نے کسی وجہ سے ملاقات کا وقت نہیں (The Life of Mahatma Gandhi) دیا ۔ موسولینی سے ان کی ملاقات ہوئی جو صرف دس منٹ تک جاری رہ سکی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ گاندھی عدم تشدد کی بات کرتے تھے اور موسولینی تشدد کے طریقے پر یقین رکھتا تھا۔ مہاتما گاندھی کا بیان ہے کہ عمارت کے جس راستہ سے گزار کر انھیں موسولینی کے کمرہ میں پہنچایا گیا، اس کی دیواروں پر ہر طرف تلواریں لگی ہوئی تھیں۔ خود دفتر کی دیواریں بھی تلواروں اور دوسرے ہتھیاروں سے مزین کی گئی تھیں (صفحہ ۲۹۵) موسولینی نے دوسری عالمی جنگ میں یہ سمجھ کر شرکت کی کہ وہ دوبارہ عظیم اطالوی ایمپائر قائم کرنے جا رہا ہے۔ مگر اس کے جنگی انتظامات نے صرف اٹلی کو تباہ کیا۔ جولائی ۱۹۴۳ میں وہ خود اپنے ملک میں گرفتار کر کے قید کر دیا گیا۔ وہاں سے بھاگ کر وہ جرمنی پہنچا۔ مگر جرمنی میں بھی اس کو سکون کی جگہ نہ مل سکی۔ ۲۸ اپریل ۱۹۴۵ کو جرمن فوجیوں نے اس کو عین اس وقت گولی مار کر ہلاک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader