Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 622

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ کے ہفت روزہ العالم الاسلامی (The Muslim World) کے شمارہ ۱۱۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۳ کے انگریزی حصہ میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ یہ روم کے اس اسلامک سنٹر کے بارہ میں تھی جو عربوں کے تعاون سے وہاں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف سعودی عرب کی مشہور دینی شخصیت ہیں۔ وہ رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے روم گئے۔ وہاں انھوں نے پوپ جان پال دوم سے ملاقات کی۔ روم میں انھوں نے ورلڈ نیوز لنک کو ایک مفصل انٹرویو دیا۔ یہ انٹرویو حیدر آباد کے انگریزی روز نامہ نیوز ٹائم (Newstime) کے شمارہ ۷ فروری ۱۹۹۳ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ فنڈمنٹلسٹ تحریکیں جو مسلم دنیا میں پھیل رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں ان کے تشدد دانہ طریقوں کی تائید نہیں کرتا۔ تشدد کا طریقہ اختیار کرنا مکمل طور پر غیر اسلامی ہے: It is totally unIslamic to use violence. ایک اور سوال سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتویٰ کے بارے میں تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کی بات سراسر جذ باتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج انسانی حقوق کو فروغ دینا چاہئیے موت کی سزا صرف ان مجرمین کو دینا چاہئے جو لوگوں کو قتل کریں۔ بقیہ ہر شخص کو انسانی حقوق دیا جانا چاہئے: Q. What is your opinion of the death penalty imposed on the British author Salman Rushdie. A. Some people, in emotion, pass these resolutions. I think that today we must promote human rights. The death penalty should be only for criminals who commit the crime of killing people. But otherwise, human rights should be given to everybody. یہ باتیں اگر ہندوستان کا کوئی عالم کہے تو تمام مسلمان اس کی جان کے دشمن ہو جائیں گے اور اس کے سر پر لاکھوں روپیہ کا انعام مقرر کریں گے۔ لیکن یہی بات جب سعودی عرب کا ایک عالم کہتا ہے تو اس پر کوئی شور برپا نہیں ہوتا اور نہ کوئی ہنگامہ کھڑا ہوتا۔ ہمارے خود ساختہ نمائندگان اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page