ایک سفر
Urdu book, p. 623
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے خلاف احتجاج نہیں کرتے۔جو لوگ سعودی عرب میں ایک رویہ اختیار کریں اور بقیہ ملکوں میں دوسرا رویہ، ایسے لوگ حدیث کی زبان میں ذوالوجہین ہیں۔ اور ذوالوجہین ہونا انسانیت کے مطابق بھی نہیں، کجا کہ وہ ایمان و اسلام کے مطابق ہو۔ روم سے میلانونکو لئے الیتالیا کی ڈومسٹک فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز سٹیک وقت پر روم سے روانہ ہوا۔ اس کی کارکردگی اور راندرونی سروس، ہر چیز انٹرنیشنل معیار کے مطابق تھی۔ مجھے یاد آیا کہ اورنگ آباد میں جب انڈین ایئر لائنر کا ایک کمر شیل جہانہ (377 Boeing) حادثہ کا شکار ہوا اور اس میں ۵۵ مسافر ہلاک ہوگئے تو اٹلی کی حکومت نے ایک ٹریول ایڈوائس جاری کی۔ اس میں اطالوی سیاحوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ انڈیا میں انڈین ایئر لائنر کے ذریعہ سفر کو واوڈ کریں۔ کیوں کہ اس سے سفر کرنا غیر محفوظ (unsafe) ہے ۔ اس پر حکومت ہند نے ایک بیان (ٹائمز آف انڈیا ۳۰ جون) جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس قسم کا مشورہ سراسر احمقانہ اور بے بنیاد ہے : Such an advice was absolutely silly and baseless. میں نے جب انڈین ایئر لائنر اور الیتالیا کا عملی تقابل کیا تو مجھے خود یہ تردید بے بنیاد نظر آئی۔ یہ انسان کی عام کمزوری ہے کہ جب اس کی کسی کوتاہی کو بتا یا جائے تو وہ اصلاح کے بجائے تردید کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ حالاں کہ اگر کوتاہی کی نشاند ہی کے بعد اصلاح پر توجہ صرف کی جائے تو وہ زیادہ مؤثر تردید کا کام کرے گی۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ قابل ذکر ہے۔ یہ واقعہ ۴ جون کو دہلی ایئر پورٹ پر پیش آیا۔ وزیر اعظم ہند مسٹر نرسمہا راؤ سرکاری وزٹ پر عمان (مسقط ) جارہے تھے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنے کے لئے حکومت مسقط کا تعاون حاصل کیا جائے۔ اس تعاون کے جواب میں حکومت ہند نے مسقط کو جدید ٹکنالوجی کی تربیت دینے میں تعاون کی پیش کش کی۔ وزیر اعظم اپنے خصوصی ہوائی جہاز پر پوری ٹیم سمیت سوار ہو چکے۔ ہوائی جہاز کے دروازے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader