Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 627

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلسل اپنی حکومت کا رقبہ اور طاقت بڑھاتا رہا۔ کہا جانے لگا کہ وہ دن نہیں جب کہ وہ پورے اٹلی کا حکمراں بن جائے مگر حکومت پر قبضہ کے ۴۲ سال گزرے تھے کہ وہ پلیگ میں مبتلا ہوا اور چند دن بیمار رہ کر مرگیا۔ یہی ہر شخص کی کہانی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو صرف ۴۲ سال ملتے ہیں، مگر ہر آدمی اس طرح عمل کرتا ہے گویا کہ وہ ۴۲ ہزار سال تک زندہ رہنے والا ہے۔ کسی بھی اگلے شخص نے اپنے پچھلے شخص سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ نویں صدی عیسوی میں اغالبہ اٹلی کے جنوبی حصہ میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ بڑھتے ہوئے ۸۲۶ میں روم تک پہنچ گئے۔ مگر روم کی مضبوط دیواروں کو عبور کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہورسکا۔ اس لئے وہ یہیں سے واپس ہوگئے۔ ہوائی جہاز کے دور میں کوئی دیوار پیش قدمی میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ مگر قدیم زمانہ میں تمام بڑے بڑے شہر دیواروں سے گھرے ہوئے تھے، اور ان دیواروں کو عبور کرنا عام طور پر سخت دشوار ہوتا تھا۔ تاہم اٹلی کے ساحلی علاقہ باری (Bari) میں عربوں کی حکومت تقریباً ۳۰ سال تک قائم رہی۔ ۸۷۸ء میں عیسائیوں نے دوبارہ باری کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اٹلی میں مسلمانوں کا زور اس حد تک بڑھا کہ پوپ جان ہشتم (۸۸۲-۸۷۲) نے مسلم حکمرانوں کو خراج ادا کیا۔ تسلی پر مسلمانوں کا قبضہ ۸۲۷ میں شروع ہوا تھا جو تقریباً ۲۰۰ سال تک جاری رہا۔ مگر خاص اٹلی میں ان کا نفوذ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ مسلمانوں کے جن فوجی سرداروں نے باری پر قبضہ کیا تھا، انھوں نے اپنے ”سلطان“ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس طرح وہ تسلی کی مسلم حکومت سے کٹ گئے؛ Philip K. Hitti, 'History of Arabs, p. 605 یہ کمزوری آج بھی مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر پائی جاتی ہے۔ جس مسلمان کو بھی کہیں موقع ملتا ہے وہ مرکز سے بغاوت کرکے شاخ پر قبضہ کرلیتا ہے۔ یہی واحد سب سے بڑا سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں میں کوئی بڑا کام نہیں ہو پاتا۔ اٹلی ہی کا ایک حصہ جزیرہ تسلی ہے۔ یہاں کے شہر پلرمو (Palermo) پر عربوں نے ۸۳۱ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page