Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 643

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ آدمی کو قربتِ خداوندی کا تجربہ نہیں کراتیں۔ یہ اسلام کی خاص صفت ہے، جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے و اسجد واقترب۔ ۲۲ ستمبر کی صبح کو اٹالین ٹی وی نے انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق انڈیا میں اسلام اور مسلمانوں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کے مواقع موجود ہیں۔ اخباروں میں جو باتیں آتی ہیں وہ حقیقت سے زیادہ مبالغہ ہیں۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اجودھیا کی مسجد مسلمانوں نے کھو دی۔ مگر عین اسی زمانہ میں دہلی میں دو درجن مسجدیں غیر مسلموں کے قبضہ میں تھیں اور ان مسجدوں کو مسلمان دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس فرق کا سبب طریق کار کا فرق ہے۔ اجودھیا میں مسلم لیڈروں نے اپنی تحریک "ٹکراؤ کے انداز میں چلائی اور دہلی کی مسجدوں کو وا گزار کرانے کی تحریک پرامن انداز میں چلائی گئی طریقِ عمل کے اسی فرق کی وجہ سے مسلمانوں نے اجودھیا کی مسجد کھودی۔ اور دہلی کی مسجدوں کو حاصل کر لیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن جدید دنیا کے لئے " ایک خدا اور ایک انسان " کا نظریہ ہے۔ یہ نظریہ ایک طرف آدمی کو صحیح ڈائرکشن دیتا ہے، اور دوسری طرف تمام انسانوں کو یکساں بنیاد پر متحد کرتا ہے۔ میلان میں ایک اور پرائیویٹ ٹیلیویژن (Tele Chiara) نے انٹرویو لیا۔ یہ کیتھولک ٹی وی کہا جاتا ہے۔ اس کا پورا نام یہ ہے : Gestione Telecomunicazioni S.R.L. انھوں نے مختلف سوالات کئے۔ میں نے انگریزی میں جواب دیا جس کا ترجمہ ڈاکٹر اندریا دلو کاروم) اطالوی زبان میں کرتے رہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ پریس کانفرنس کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ عالمی پریس کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں ایک پر اس جاری ہوا ہے۔ ساری دنیا جنگ اور ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر امن کے راستہ کی طرف جارہی ہے۔ یہ ایک عالمی پریس ہے جو انسانی تاریخ میں جاری ہوا ہے۔ موجودہ کانفرنس اسی کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح کا پریس جب تاریخ میں جاری ہو جائے تو لازمی طور پر وہ اپنے نتیجہ تک پہنچ کر رہتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page