Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 644

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں مشکلوں کو چیلنج کے روپ میں دیکھتا ہوں ۔ اس لئے مجھے مشکلات کو دیکھ کر پریشانی نہیں ہوتی ۔ قدرت نے ہماری ترقی کے لئے یہی راستہ مقرر کیا ہے ۔ چیلنج نہیں تو ترقی بھی نہیں۔ میلان میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں وینس (Venice) میں رہتا ہوں۔ انھوں نے اپنا نام۔۔۔۔۔۔۔ ایلی مینا ٹو دی آلّا (illuminatto de Alla) بتایا۔ یہ نام مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ یہ اصل نام کا اطالوی زبان میں ترجمہ ہے۔ میرا اصل نام ظہور احمد ہے۔ نام کے ترجمہ کا یہ طریقہ بہت عجیب ہے۔ یہ خطر ناک بھی ہے۔ کیوں کہ چند نسلوں کے بعد ایسے لوگوں کا تشخص ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ اسی کلچر میں ضم ہو جائیں گے جس کے زیر اثر انھوں نے اپنے نام کا یہ ترجمہ کیا تھا۔ ۲۲ ستمبر کی شام کا کھانا "بشپ ہاؤس" میں تھا۔ یہ ایک محل نما عمارت ہے جو کوئی سو سال پہلے بنائی گئی تھی۔ اس میں بشپ کی رہائش گاہ اور اس کے دفاتر واقع ہیں۔ ۲۳ ستمبر کو میلانوں سے واپسی تھی۔ فجر کی نماز یہیں کے ہوٹل میں پڑھی اور صبح سات بجے اپنے کمرہ سے نکلا۔ اس وقت بے اختیارانہ طور پر زبان پر یہ دعا جاری ہو گئی اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِی مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيراً میلانُو ائیر پورٹ پر پہنچنے میں بعض اتفاقی اسباب سے دیر ہوگئی۔ ہماری فلائٹ روانہ ہوگئی اور ہم اس پر سوار نہ ہوسکے۔ دوسری فلائٹ میں ہمارا نام ویٹنگ لسٹ میں تھا۔ وہ بھی نہ مل سکا۔ آخر تین گھنٹہ کی تاخیر سے تیسری فلائٹ ملی گئی۔ اب یہ سوال تھا کہ لندن میں جو لوگ ہماری رہنمائی کے لئے آنے والے تھے ان سے ہم کیسے مل سکیں گے۔ اس احساس کو لئے ہوئے ہم برٹش ائیرویز کی فلائٹ ۵۷۵/۲۳ کے ذریعہ لندن ائیر پورٹ پر اترے تھے۔ میلان سے لندن کے راستہ میں لندن کا اخبار ٹائمس (The Times) کا شمارہ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۳ء دیکھا۔ اس شمارہ کے ساتھ ۶ اصفحہ کا تین رنگ میں چھپا ہوا ضمیمہ شامل تھا جس کا نام سعودی عرب (Saudi Arabia) تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے چند برسوں کے حالات کے نتیجہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page