ایک سفر
Urdu book, p. 657
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹی وی کے موجودہ دور میں بھی یہاں کتابوں کے مطالعہ کا وسیع ذوق پایا جاتا ہے۔ لوگ بہت بڑے پیمانہ پر کتنا ہیں خریدتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ میں میں نے حسب ذیل سطریں پڑھیں کہ ایک کتابی ادارہ نے ایک انوکھا منصوبہ بنایا۔ اس نے اعلان کیا کہ کتاب خرید کر اپنے گھر لے جاؤ۔ دیکھنے کے بعد کتاب پسند نہ آئے تو اس کو لوٹا کر اپنی رقم واپس لے لو۔ یہ اندیشہ بہت مبالغہ آمیز ثابت ہوا کہ ہر آدمی دوبارہ کتاب لے کر اپنی رقم واپس مانگنے آجاۓ گا: وگن میں مجلہ احداث العالم الاسلامی کا شمارہ (۱۹۹۳ء) دیکھا۔ یہ مجلہ ۷۰۰ سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے۔ وہ ہر سال چھپتا ہے۔ اس کا پتہ یہ ہے : دارالاعتصام، ۸ شارع حسین حجازی، القاہرہ ۱۱۵۱۱۔ اس میں مختلف ملکوں سے متعلق اسلامی خبریں درج تھیں۔ اٹلی کے عنوان کے تحت ایک خبر یہ تھی کہ ایک اطالوی خاتون نے اپنی ریسرچ کے نتائج چھاپے ہیں۔ اس میں بتایا گیا کہ یورپ میں سب سے پہلا عربی قرآن اٹلی میں ۳۸۔ ۱۵۳۷ء میں چھاپا گیا تھا۔ یہ ۲۳۲ صفحہ پر مشتمل تھا۔ یہ ساڑھے چار سو سال پہلے کی بات ہے۔ چھپنے کے بعد اس قرآن کے نسخے پوپ کے حکم سے جلا دیئے گئے تھے۔ تاہم اس قرآن کا ایک نسخہ مذکورہ خاتون کو اطالوی کتب خانہ میں ملا ہے جس کی نشاندہی انھوں نے اپنے مقالہ میں کی ہے۔ مجلہ احداث العالم الاسلامی (۱۴۱۴ھ ، ۱۹۹۳ء) میں ایک باب کشمیر کے بارہ میں تھا۔ اس میں کارنامہ جہاد کے طور پر درج تھا کہ کشمیر کے مجاہدین نے ہندو فوج کے دس ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا۔ (ان العملیات الجہادیة ادت الی قتل اکثر من عشرة آلاف من الجنود الھندوس) صفحہ ۲۴ اس کو پڑھ کر میں نے کہا کہ اسلام میں جہاد کا عمل یہ تھا کہ دس ہزار انسانوں کو خدا کے دین میں داخل کیا جائے، اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مجاہدوں کے نزدیک جہادی عمل یہ ہے کہ دس ہزار انسانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader