ایک سفر
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتراف کرتے ہیں۔ جرمن لیڈی بہت غور سے میری بات کو سنتی رہی۔ اس کے بعد تھینک یو، تھینک یو کہتی ہوئی چلی گئی۔ فرینکفرٹ سے جنیوا کے لئے لفتھانسا کی فلائٹ ۸۴۶ اکے ذریعہ روانگی ہوئی۔ گیٹ ۳۲ بی کی تلاش میں نکلا تو ایک بورڈ پر لکھا ہوا نظر آیا کہ اپنی پرواز کے لئے اپنی مدد آپ کریں : For your flight — Please help yourself. میں نے دیکھنا شروع کیا تو مکمل نشانات اتنی زیادہ مقدار میں جگہ جگہ لگے ہوئے تھے کہ وسیع ایرپورٹ پر اپنے مطلوبہ گیٹ پر پہنچنا بالکل آسان تھا۔ سینکڑوں آدمی انھیں نشانات کی مدد سے اپنے مطلوبہ مقام پر چلے جا رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر خدا نے اپنی معرفت کے نشانات کائنات میں جگہ جگہ نصب کر رکھے ہیں۔ مگر کوئی شخص ان سے رہنمائی حاصل نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ " ایرپورٹ " کے نشانات کے بارہ میں لوگ سنجیدہ ہیں۔ مگر خدا کے نشانات کے بارہ میں لوگ سنجیدہ نہیں۔ اور نشانات سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے آدمی کا سنجیدہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ فرینکفرٹ ایرپورٹ پر ایک جرمن پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ پروفیسر کارل ٹرال (Carl Troll) کے شاگرد تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کارل ٹرال یونیورسٹی آف بون میں جغرافیہ کے پروفیسر تھے۔ وہ ۱۸۹۹ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۷۵ میں وفات پائی۔ وہ اپنے فن میں ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کو جغرافیہ دانوں کی عالمی یونین (International Union of Geographers) کا پریزیڈنٹ بنایا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۶۴ میں وکٹوریہ البرٹ ہال (لندن) میں پروفیسر کارل ٹرال کی اسپچ تھی۔ اس میں مختلف ملکوں کے ممتاز سائنس داں جمع تھے۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پروفیسر ٹرال نے کہا کہ سائنس داں کی حیثیت سے ان کی زندگی کا بنیادی تجربہ یہ ہے کہ وہ خالق کے زیادہ سے زیادہ احسان مند ہوتے چلے گئے اور تخلیقی عمل میں خدا کی عظمت کو دیکھ کر وہ حیران کن احساس سے بھر گئے: The basic experience of his life as a scientist has been that he became more and more grateful to the Creator and full of wonders at God's greatness in His works of creation.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader