سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
انتظار بے عملی نہیں، اس دنیا میں انتظار بھی ایک عملی پالیسی ہے۔ مذکورہ مسافر کو میں نے ایک حدیث سنائی۔ اس حدیث کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: أَفْضَلُ العِبَادَةِ انْتِظَارُ الفَرَج (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے۔ ساڑھے نو گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد ہمارا جہاز فرانس کی راجدھانی پیرس میں اتر گیا۔ پیرس کا ہوائی اڈہ غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ وہ خود ایک شہر ہے۔ میں یہاں کئی بار آ چکا ہوں مگر اب تک اس کا جغرافیہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کاؤنٹر پر ایک خاتون ساڑی پہنے ہوئے تھیں۔ انہوں نے میرے حلیہ سے سمجھا کہ میں بھی ایک ہندوستانی ہوں۔ انہوں نے میرا الکٹ کمپیوٹر پر چیک کرنے کے بعد کہا: پتاجی، آپ کی فلائٹ ”ٹرمینل ون‘‘ سے ہے۔ وہاں تک آپ کو بس سے جانا ہوگا۔ آپ اس کری پر بیٹھ جائیں۔ میں ابھی آپ کو لے جا کر بس پر سوار کرا دیتی ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد میں ہوائی کمپنی کی بس میں تھا۔ یہ بس پیرس کے مختلف حصوں سے گزرتی رہی۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے ٹرمینل ون پر پہنچادیا۔ یہاں ایر پورٹ پر مجھے باتھ روم جانا تھا۔ میں اتفاق سے معذوروں کے باتھ روم میں چلا گیا۔ وہ غیر معمولی طور پر بڑا تھا۔ اس کے اندر ہر قسم کی سہولتیں موجود تھیں حتیٰ کہ اس کے اندر انٹر کام بھی لگا ہوا تھا، تاکہ معذور شخص کو کوئی مشکل پیش آ جائے تو فوراً وہ انٹر کام پر بتا کر اپنی مدد کے لیے ایر پورٹ کے آدمی کو بلا سکے۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں بھی ایک معذور ہوں۔ دنیا میں معذور شخص کو خصوصی رعایت کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ کاش آخرت میں بھی مجھ کو معذور قرار دے کر میرے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کیا جائے۔ فرانس میں تقریباً 1500 چھوٹی بڑی مسجدیں ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں قطعی اعداد و شمار حاصل نہیں۔ تاہم عام اندازہ یہ ہے کہ یہاں پانچ ملین مسلمان آباد ہیں۔ فرانسیسی مسلمانوں میں زیادہ تر مراکو، الجزائر اور تونس وغیرہ سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔ فرانس میں مسلمانوں کی تقریباً دو تنظیمیں پائی جاتی ہیں۔ حال میں ان کا ایک وفاق قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 1990ء میں پیرس میں ایک اسلامی کانفرنس ہوئی جس میں پانچ ہزار سے زیادہ مسلمان شریک ہوئے۔ اس کا موضوع تھا: الحریات و حقوق الانسان فی الاسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader