سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑھتا ہوں ۔ اس کے بہت سے مواقع پر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چیز میرے دل کو چھورہی ہے۔ محمد نے براہِ راست خدائے واحد کی طرف راستہ کھولا۔ یہاں انسان خدا سے بات کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسیحیت کی مثال ایسی ہے کہ انسان ہیلو، ہیلو کرتا رہے اور دوسری طرف سے کوئی آواز نہ آئے۔ اس طویل خط کے آخر میں مصنف لکھتے ہیں : (فی هذا النص الثمين يقرر رلکه بعدائه للمسيحية و إعجابه بالاسلام (صفحہ 127 جرمنی سے جدید مسلم تاریخ کے بہت سے واقعات وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر پہلی عالمی جنگ (1913-18ء) کے وقت دو عالمی محاذ بن گئے تھے۔ ایک الائیڈ پاورس کا محاذ جس کی قیادت برطانیہ کر رہا تھا۔ دوسرا ایکس پاورس (Axis powers) کا محاذ جس کی قیادت جرمنی کر رہا تھا۔ اس وقت ترکی میں عثمانی خلافت قائم تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ ترکی دونوں محاذوں میں سے کس کا ساتھ دے ۔ اس نازک موقع پر مولانا محمد علی جوہر نے رات دن جاگ کر ایک لمبا مضمون لکھا جو ان کے انگریزی ہفت روزہ کامریڈ میں چھپا۔ اس میں انہوں نے ترکی کو مشورہ دیا تھا کہ اس جنگ میں وہ برطانیہ کے مقابلہ میں جرمنی کا ساتھ دیں۔ اس کا عنوان تھا ترکوں کا انتخاب : The Choice of the Turks مولانا محمد علی کا یہ طویل مضمون الفاظ کا ایک جنگ تھا جو تدبیر اور دور اندیشی سے یکسر خالی تھا۔ تاہم اس مضمون کی بنا پر نہیں بلکہ ترکی کے جذباتی وزیر جنگ انور پاشا کے جلد بازانہ اندازہ (hasty calculation) کی وجہ سے ترکی جرمنوں کی حمایت میں جنگ میں کود پڑا۔ اگر چہ ترک کیبنٹ کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ ترکی کو اس معاملہ میں غیر جانبدار (neutral) رہنا چاہیے۔ حالات کے عین فطری تقاضے کے تحت اس جنگ میں برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کو فتح حاصل ہوئی اور جرمنی اور اس کے ساتھیوں کو بری طرح شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر بعد از جنگ سودا بازی (Postwar bargaining) شروع ہوئی۔ فاتح طاقتوں نے ترکی کی عثمانی خلافت کو تقسیم کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ مثلاً روس نے درۂ دانیال پر قبضہ کر لیا ۔ فرانس نے شام پر اپنی بالادستی قائم کر لی۔ برطانیہ نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader