سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
مصر کو اپنے سیاسی دائرہ میں شامل کر لیا۔ فلسطین کو ایک انٹر نیشنل علاقہ قرار دے دیا گیا۔ 2 نومبر 1918ء کو بالفور ڈکلریشن (Balfour Declaration) جاری ہوا جس میں یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک نیشنل ہوم بنانے کا وعدہ کیا گیا۔ (13/790 .EB) عثمانی خلافت کا خاتمہ اور فلسطین کے محاذ پر پسپائی جیسے حادثات جن کو نادان لوگ کمال اتاترک اور یاسر عرفات کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں، وہ حقیقتاً انور پاشا اور محمد علی جیسے لیڈروں کے حصہ میں جاتا ہے جن کے پاس جذبات کا سرمایہ تو ضرورت سے زیادہ تھا مگر بصیرت کا سرمایہ ضرورت سے بہت کم۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی جذباتی قیادت کے نتیجہ میں دوبارہ جرمنی کو شکست ہوئی۔ فاتح قوموں (برطانیہ، امریکہ، روس) نے جرمنی کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ ایک کو ایسٹ جرمنی کہا گیا اور دوسرے کو ویسٹ جرمنی۔ یہ تقسیم یہاں تک پہنچی کہ دونوں حصوں کے درمیان 1961ء میں عظیم برلن وال کھڑی کر دی گئی۔ مگر جیسے ہی سوویت یونین کمزور پڑا خود جرمنوں نے نومبر 1989ء میں اس دیوار کو توڑ کر گرادیا اور دونوں حصے مل کر دوبارہ ایک ملک بن گئے۔ ایک بار میں نے پاکستان کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کہا کہ اسی طرح انڈیا اور پاکستان کو بھی دوبارہ مل جانا چاہیے۔ موجودہ مصنوعی حد بندی کو اگر ختم کر دیا جائے تو اس میں دونوں کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی میں تو دونوں حصوں کے لوگ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں مذہبی اعتبار سے بھائی بھائی تھے۔ مگر یہاں کا معاملہ یہ ہے کہ دونوں کا مذہب الگ الگ ہے۔ مزید یہ کہ ہندو فرقہ اکثریت میں ہے۔ اگر ایسا غیر مساوی اتحاد کیا گیا تو ہندو اپنی اکثریت کے زور پر ہم کو نگل جائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ ایک لغو بات ہے۔ یہ اسلام کی نظریاتی طاقت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ خود پاکستان کی تاریخ اس اندیشہ کی تردید کے لیے کافی ہے۔ پاکستان کا علاقہ ہمیشہ سے مسلم علاقہ نہیں تھا۔ آج وہاں ایک سوملین سے زیادہ مسلمان پائے جاتے ہیں۔ جب کہ ہندوؤں کی تعداد بمشکل صرف 10 لاکھ ہے۔ مگر شروع میں جب مسلمان اس علاقہ میں آئے تو وہاں آبادی کا تناسب اس کے بالکل برعکس تھا۔ پھر ماضی کے اس تجربہ کے باوجود مستقبل کے لیے آپ لوگ اس قدر خوف اور مایوسی میں کیوں مبتلا ہیں۔ آپ لوگ کیسے مسلمان ہیں کہ آپ کی نگاہ ہندو کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader