Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

عددی برتری پر تو ہے مگر آپ کی نگاہ اسلام کی نظریاتی برتری پر نہیں۔ جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چار فیصد ہے۔ یہاں تقریباً چالیس اسلامی تنظیمیں ہیں۔ پہلی عالمی جنگ میں ترکی جرمنوں کے ساتھ تھا۔ اس طرح جنگ کے دوران فوجی خدمت کے تحت ترکی اور یوگوسلاویہ کے حامی مسلمان پہنچے۔ انہوں نے یہاں پہلی مسجد بنائی۔ اب یہاں کے تقریباً ہر شہر میں بڑی تعداد میں مسجدیں اور اسلامی مراکز ہیں۔ ان کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں۔ ان اداروں میں دس ہزار سے زیادہ مسلم بچے قرآن اور دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جرمنی کے ایک شہر ہائیڈلبرگ میں 1991ء میں ایک بڑی اسلامی مؤتمر ہوئی۔ اس کا شعار تھا: اَلا اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ (2:214)۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس شعار میں قومیت کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ گویا قومی مقصد کے لیے قرآن کا استعمال ہے۔ اس کے بجائے بہتر یہ تھا کہ کسی دعوتی آیت کو شعار بنایا جائے۔ راقم الحروف نے تقریباً چالیس سال پہلے اعظم گڑھ کی نمائش میں ایک اسلامی اسٹال لگایا تھا۔ اس میں عمودی (vertical) انداز میں ایک بہت اونچا بورڈ نصب کیا تھا جس پر یہ آیت مع ترجمہ لکھی ہوئی تھی: وَاللّٰهُ يَدْعُوْا اِلٰى دَارِ السَّلَامِ (10:25)۔ یعنی ، اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ 22 اکتوبر 1994ء کو بون (جرمنی) میں سباش چندر بوس پر ایک سیمینار ہوا۔ اس کو یہاں کے ہندوستانی سفارت خانہ نے اسپانسر کیا تھا۔ سباش چندر بوس 43-1941ء جرمنی میں رہے تھے۔ ان کے جرمنی آنے کا مقصد یہ تھا کہ برٹش راج ختم کرنے کے لیے جرمنی سے مدد حاصل کی جائے۔ اس وقت جرمنی میں نازی پارٹی کی حکومت تھی۔ لوئی فشر نے اپنی کتاب لائف آف مہاتما گاندھی میں لکھا ہے کہ سباش چندر بوس ایک طوفانی آدمی تھے جن کا کہنا تھا کہ مجھ کو خون دو اور میں تم سے آزادی کا وعدہ کرتا ہوں۔ اس نعرہ کی وجہ سے ان کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی (صفحہ 256)۔ سباش چندر بوس (اور جواہر لال نہرو) اس زمانہ میں نوجوانوں کے مقبول رہنما بنے ہوئے تھے وہ دونوں فوراً آزادی چاہتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ لڑائی چھیڑنے کے لیے تیار تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page