Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں مہاتما گاندھی کے مصالحانہ رویہ پر نہایت سخت احتجاج کر رہے تھے (صفحہ 261)۔ ان کے اثر سے گاندھی جی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ 31 دسمبر 1929ء تک انڈیا کو آزاد کر دیا جائے، ورنہ میں ایک طرفہ طور پر آزادی کا اعلان کر دوں گا اور اپنی تمام کشتیاں جلا ڈالوں گا (صفحہ 257)۔ سبھاش چندر بوس مہاتما گاندھی کے سخت مخالف تھے (صفحہ 269)۔ گاندھی جی کا نظریہ پر امن جدوجہد کا تھا، جب کہ سبھاش چندر بوس کھلے طور پر تشدد کی بات کرتے تھے اور برطانیہ کے خلاف مسلح بغاوت (armed revolt) کے وکیل تھے (342) لوئی فشر نے 25 جون 1946ء کو نئی دہلی میں گاندھی جی سے ملاقات کی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے گاندھی جی سے کہا تھا کہ سبھاش چندر بوس 1944ء میں جرمنی گئے۔ اگر ان کا خیال تھا کہ وہ جرمنی سے مدد لے کر انڈیا کو بچا سکتے ہیں تو وہ ایک بیوقوف آدمی تھے اور سیاسی لیڈر بے وقوفی کا تحمل نہیں کر سکتا: Bose went to Germany. If he believed that India would be saved by Germany, he was stupid, and statemen cannot afford to be stupid. (p.442) نیتا جی سبھاش چندر بوس نے انڈین نیشنل آرمی کے نام سے ایک آزاد فوج بنائی تھی۔ اس کے ایک کیپٹن ڈاکٹر رتن چند (سری گنگا نگر) تھے۔ انہوں نے اپنی یادداشت شائع کی ہے جس کا عنوان ہے: ایک شام نیتا جی کے ساتھ۔ اس میں وہ 20 دسمبر 1944ء کی ایک میٹنگ کا حال بیان کرتے ہیں جب کہ نیتا جی برما کے باتو پیاٹ آفیسر ٹریننگ اسکول کی سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ دو سوال و جواب یہ تھے: سوال: آپ کہتے ہیں کہ ہتھیار بند انقلاب کے بغیر ہندوستان آزاد نہیں ہو سکتا۔ تو سوال یہ ہے کہ ہتھیاروں کا نظام کیسے ہوگا؟ جواب: ہندوستان میں بہت سے ہتھیار پہلے ہی سے موجود ہیں۔ آپ لوگوں کا کام ان کو چھیننا اور ان کو اپنے استعمال میں لانا ہے۔ مثال کے طور پر میں چٹاگانگ کے اسلحہ خانہ کی ڈکیتی کا ذکر کرتا ہوں۔ جس طرح وہاں سے ہتھیار چھینے گئے تھے، اسی طرح اگر ہندوستانی کوشش اور ہمت کریں تو باہر سے ہتھیار لانے کی ضرورت نہ رہے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page