سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
فرانس کی آبادی میں تقریباً 80 فیصد کیتھولک عیسائی ہیں۔ پندرہ فیصد مسلمان ہیں اور پانچ فیصد میں پروٹسٹنٹ اور یہودی ہیں۔ آپ فرانس کے کسی بھی حصہ میں جائیں، آپ کی ملاقات کسی نہ کسی مسلمان سے ہو جائے گی، خواہ وہ ایئر پورٹ ہو یا کوئی کھیت۔ پیرس کے ایئر پورٹ پر ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ انگریزی جانتے تھے اس لیے مشکل پیش نہیں آئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ فرانس ہمیشہ ”اسلام دشمنی“ میں امریکہ اور مغربی ملکوں کے ساتھ رہا ہے۔ لیکن آج اسی ملک میں زبردست اسلامی لہر آئی ہوئی ہے: But now a severe Islamic wave is sweeping the same nation. مگر سوالات کے دوران اندازہ ہوا کہ ”اسلامی لہر“ کا یہ نظریہ زیادہ تر خوش فہمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرانس کے چالیس ہزار مسلم نوجوان مکمل طور پر اسلام کے زیر اثر ہیں۔ مگر جب میں نے مزید سوالات کیے تو معلوم ہوا کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو بے روزگاری کا شکار ہیں یا اس احساس میں مبتلا ہیں کہ فرانس کی سوسائٹی میں انہیں با عزت مقام نہیں ملا۔ دوسرے لفظوں میں اس اسلامی لہر کے پیچھے اصل محرک مادی محرومی کا احساس ہے، نہ کہ آخرت کی جواب دہی کا احساس۔ یہ اسلام کا ایکسپلائٹیشن ہے اور اسلام کے اس قومی ایکسپلائٹیشن کا یہ الٹا نتیجہ نکلا ہے کہ مذکورہ فرانسیسی مسلمان کے اعتراف کے مطابق، یہاں کی رائے عامہ شدت سے مسلمانوں کے خلاف ہو گئی ہے: Public opinion is extremely against Muslims. ان انتہا پسند مسلمانوں نے اسلام کی نمائندگی اس طرح کی ہے کہ فرانسیسیوں کو نظر آتا ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ان کے سسٹم سے ٹکراتا ہے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے بہت سی غیر ضروری رکاوٹیں یہاں کے مسلمانوں کو پیش آ رہی ہیں۔ فرانس کے وزیر داخلہ چارلس پاسک (Chartes Pasqua) نے شہرلیان(Lyon) کی مسجد کے افتتاح کے وقت اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں فرانس میں صرف اسلام نہیں چاہیے بلکہ ہمیں وہ اسلام چاہیے جو فرانس کا اسلام ہو: We would not have just an Islam in France. There must be an Islam of France فرانس کے مسلمانوں میں بہت تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر سب کے سب نارتھ افریقہ کے مہاجرین ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں فرانس نے 1830ء میں الجیریا کو فتح کیا۔ 1909ء میں اس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader