سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھا کہ اس کے سوالات ختم ہی نہیں ہو رہے ہیں تو مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے کہا: Who are you foolish girl to ask me such silly questions. میں نے کہا کہ میں تل ابیب نہیں جاؤں گا۔ میرے کاغذات مجھے لوٹا دو۔ میں اب دہلی واپس جا رہا ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ تم اپنا نام بتاؤ۔ میں تمہاری کمپلینٹ کروں گا اور پھر تم کو سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ اب وہ گھبرا گئی اور نام بتانے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ آخر میں ایک مرد آیا۔ اس نے کہا کہ تم ان کو مت روکو اور اپنا نام لکھ کر دے دو۔ اس کے بعد اس نے اپنا نام سوسن جیکب (Ms Susan Jacob) لکھا اور فوراً امیر ابورڈنگ کارڈ مجھے دے دیا۔ اس کے بعد ایک اور مرد مسٹر نیویل مستری (Naville Mistry) کو میرے ساتھ کر دیا۔ وہ پہلے مجھے ریسٹوران میں لے گیا۔ اس کے بعد مجھے گیٹ نمبر 8 تک پہنچایا جہاں سے مجھے آگے کا جہاز لینا تھا۔ ہندوستان میں ساڑھے چھ ہزار یہودی ہیں۔ ان میں سے ساڑھے پانچ ہزار بمبئی میں آباد ہیں۔ بمبئی کی سموئیل اسٹریٹ پر یہودیوں کی ایک عبادت گاہ (Synagogue) ہے جو 1796ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندوستان میں یہودی دو ہزار سال پہلے آئے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے برصغیر ہند میں ان کی تعداد ساٹھ ہزار تھی۔ بمبئی میں مجموعی طور پر یہودیوں کے نوسینیگاگ موجود ہیں۔ تاہم یہودیوں کی دلچسپی اپنے مذہب سے اتنی کم ہے کہ سموئیل اسٹریٹ کے دوسو سالہ قدیم سینیگاگ میں سنچر (سبت) کے دن بمشکل دس یہودی اپنی ہفتہ وار عبادت کے لیے آتے ہیں (آفٹرنون، بمبئی، 3 ستمبر 1995)۔ بمبئی کے ابو البقا صاحب (عمر 64 سال) نے 29 اکتوبر 1995ء کی ایک ملاقات میں بتایا کہ بمبئی میں ایران سے آیا ہوا ایک یہودی تھا۔ اس کا نام مسٹر کلائی (A.A.Kelaty) تھا۔ اس کی تجارتی فرم کا نام یہ تھا: Kelaty Trading Company وہ شیپ کیسنگ (Sheep casing) کی سلائی کا کام کرتا تھا۔ 1971ء میں اس کے ساتھ ابو البقا صاحب کی پارٹنر شپ ہوئی۔ کئی سال تک اس کے ساتھ پارٹنر شپ بہت اچھی طرح چلتی رہی۔ اس کے بعد وہ بمبئی چھوڑ کر اسرائیل گیا اور وہاں سے پھر امریکہ چلا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader