سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
جب دونوں میں پارٹنر شپ کی بات ہوئی تو مسٹر کلائی نے کہا کہ دیکھیے، آپ مسلمان ہیں، میں ایک یہودی ہوں۔ عرب اور اسرائیل کی نزاع میں میرا آپ کا اختلاف واضح ہے، اس کے باوجود ہمیں اپنی مشترک تجارت کو کامیابی کے ساتھ چلانا ہے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ہم اور آپ کبھی عرب اور اسرائیل کے مسئلہ پر بات نہ کریں۔ چنانچہ دونوں اس پر قائم رہے۔ ان کی پارٹنر شپ آخر وقت تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی۔ اسرائیلی ایئر لائن کا نام ایل آل (El Al) ہے۔ اس کی فلائٹ نمبر (82-LY) کے ذریعہ بمبئی سے روانگی ہوئی۔ جہاز اپنے وقت پر صبح چار بجے روانہ ہوا۔ جب کہ کیلنڈر میں 27 اگست کی تاریخ ہو چکی تھی۔ یہ سات گھنٹہ کی مسلسل پرواز تھی۔ راستہ میں بار بار نیند آتی رہی۔ اس طرح راستہ آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ جہاز میں ایک شخص نے میرے چہرہ پر داڑھی اور سر پر پگڑی دیکھ کر کہا کہ کیا آپ سکھ ہیں: Are you a Sikh? میں نے کہا میں مسلم ہوں۔ اگر وہ زیادہ غور کرتا تو ایسا سوال نہ کرتا۔ کیوں کہ میری داڑھی سکھوں کی داڑھی سے مختلف تھی۔ اسی طرح میری سفید پگڑی سوڈانیوں کی پگڑی سے مشابہ تھی، نہ کہ سکھوں کی پگڑی سے۔ فرق یہ ہے کہ سوڈانیوں کی پگڑی کافی بڑی ہوتی ہے اور میری نسبتاً چھوٹی۔ جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو نیچے بادلوں کا منظر تھا جس کے اوپر جہاز زرینگتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہی منظر ہر جہاز میں اور ہر ملک میں سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل کے سفر میں جو منظر مشاہدہ میں آرہا ہے وہی غیر اسرائیل کے سفر میں بھی نظر آتا ہے۔ مگر انسان کا مزاج عجیب ہے۔ وہ مشابہتوں پر دھیان نہیں دیتا اور اختلافات کی طرف زیادہ دوڑتا ہے۔ جہاز اور اس کی سروس دوسرے ملکوں کے جہازوں کے مقابلہ میں معمولی تھی۔ حتیٰ کہ ایئر انڈیا کے مقابلہ میں بھی۔ رات کو مسافروں کی تفریح کے لیے جو فلم دکھائی گئی وہ زیادہ تر مار دھاڑ کی فلم تھی۔ کچھ نوجوان گولی مارتے ہوئے اور بم مارتے ہوئے دکھائے گئے جس سے ماحول میں تباہی پھیل گئی۔ میں نے سوچا کہ اسرائیل کی اقتصادیات (War-based economy) ہے۔ یہاں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader