Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام بہترین وسائل جنگی تیاریوں اور متشددانہ کارروائیوں پر صرف ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل سنگاپور اور جاپان کی طرح ترقی نہ کرسکا۔ صبح کو کھڑکی کھولی تو سورج کی سنہری روشنی کھڑکی کے راستے سے اندر داخل ہوئی اور جہاز کے اندر ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ میں نے سوچا کہ سورج اسرائیلی جہاز اور غیر اسرائیلی جہاز میں فرق نہیں کرتا۔ اس کی نفع رسانی ہر ایک کے لیے یکساں طور پر جاری ہے۔ یہ خدائی اخلاقیات ہے جس کو گویا سورج کے ذریعہ معلوم ومشہور بنایا جارہا ہے۔ بمبئی (ممبئی) اور تل ابیب کے درمیان پرواز کرتے ہوئے ایک انگریزی میگزین ایکشن ایشیا (Action Asia) کا شمارہ اگست ۔ ستمبر 1995ء دیکھا۔ یہ میگزین امریکہ سے شائع ہوتا ہے۔ یہ دوماہی میگزین ہر اعتبار سے نہایت عمدہ تھا۔ امریکہ موجودہ زمانہ میں غیر امریکی ملکوں کا بھی چیمپئن بنا ہوا ہے۔ اس میں ایک مضمون کامیاب لوگوں (Achievers) کے بارے میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نیپال کے کچھ دریاؤں میں پانی نہایت طغیانی کے ساتھ بہتا ہے۔ ان میں کشتی چلانا بہت جوکھم کا کام ہے۔ معذور لوگوں کی ایک ٹیم نے طے کیا کہ وہ ان دریاؤں میں عین طغیانی کے زمانہ میں کشتی چلائیں۔ انہوں نے سوچا کہ ہم جسم کے اعتبار سے معذور ہیں مگر ہمارا دماغ معذور نہیں: We are disabled only in body, not in mind. نومبر 1994ء میں چھ معذور افراد نے ہر قسم کے ضروری سامان سے لیس ہو کر اپنی کشتی دریا میں ڈال دی۔ انہوں نے ہمت سے کام لے کر کامیابی حاصل کی اور یہ ثابت کیا کہ اعلیٰ کارکردگی کے لیے واحد رکاوٹ صرف وہ ہے جو آدمی خود اپنے اوپر ڈال لے: A group of disabled adventurers took on the wild white water of Nepal, and proved the only limits to performance are those we impose on ourselves. بمبئی کے تجربہ کی بنا پر مجھے اندیشہ تھا کہ شاید اسرائیلی ایئر پورٹ پر پہنچ کر وہاں بھی اسی قسم کا سخت تر معاملہ پیش آئے۔ تاہم یہ سوچ کر مطمئن تھا کہ وہاں ایئر پورٹ پر کانفرنس کے منتظمین موجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page