سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں گے اور وہ میرے لیے کافی ہو جائیں گے۔ مگر جہاز سے باہر آنے کے بعد وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ میں دوسرے مسافروں کے ساتھ لائن میں لگ گیا۔ یہاں بھی اتفاق سے کھڑکی کے پیچھے ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس نے چند معمولی سوال پوچھ کر فوراً ہی میرے پاسپورٹ پر اسٹیمپ ڈال دی اور مجھے رخصت کر دیا۔ باہر آیا تو ڈاکٹر لیونارڈ مل گئے جو میری رہنمائی کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ کچھ دیر کے لیے وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھا۔ پھر بذریعہ کار یروشلم کے لیے روانگی ہوئی۔ یروشلم یہاں سے تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ جس اسرائیلی ایئر پورٹ پر ہمارا جہاز اترا اس کا نام بن گوریان انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے وہ لُد (Lod) کے علاقہ میں واقع ہے۔ لُد کے وسیع ایئر پورٹ پر جہاں ہمارا جہاز اترا عین اسی مقام پر سفید رنگ کا ایک اونچا مینار تھا۔ یہ مینار اپنی بلندی کی وجہ سے دور سے دکھائی دیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ مسیح ابن مریم جب نازل ہوں گے تو وہ دجال کا پیچھا کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ لُد کے دروازه پر اس کو پکڑیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے (فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٌ، فَيَقْتُلُهُ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937۔ اس مقام کا قدیم نام لُد ہے۔ انگریزی میں اس کو لُد (Lydda) کہتے ہیں۔ حدیث میں جس مقام کا ذکر ہے، ممکن ہے کہ وہ یہی مقام ہو۔ اس کا نام بائبل میں کئی بار آیا ہے۔ اقوام متحدہ نے 29 نومبر 1947ء کو فلسطین کی تقسیم کا جو ریزولیوشن پاس کیا تھا اس کے تحت یہ مقام عربوں کو دیا گیا تھا۔ مگر 12 جولائی 1948ء کو اسرائیلی فوجوں نے حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت سے وہ اسرائیل کا ایک حصہ ہے۔ لُد کا یہ انٹرنیشنل ایئر پورٹ اسرائیل کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے۔ دورِ آخر میں حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں بعض حضرات نے مختلف رائیں پیش کی ہیں۔ مثلاً علامہ اقبال اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں: آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہیں یا مجدد، جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات ایئر پورٹ سے یروشلم کا سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ سڑک نہایت عمدہ تھی۔ دونوں طرف درخت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader