Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

قطاریں کھڑی ہوئی تھیں ۔ مگر درختوں پر وہ ہریالی نہ تھی جو ایک ہفتہ پہلے ہریانہ کے سفر میں سڑک کے دونوں طرف میں نے دیکھی تھی ۔ اس کی وجہ یہاں بارش کی کمی ہے ۔ موسم کافی گرم تھا۔ راستہ میں سڑک کے دونوں طرف بستیاں دکھائی دیں۔ وہ سب کریم کلر کے پتھروں سے بنائی گئی تھیں ۔ یروشلم میں داخل ہوا تو تمام عمارتیں اسی قسم کے پتھروں کی نظر آئیں۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ عمارتوں کو پتھر سے بنانے کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اس کی قدیم وضع کو باقی رکھنا چاہتے ہیں ۔ تاہم تمام عمارتیں جدید فن تعمیر کے مطابق بنائی گئی تھیں اور خوبصورت تھیں ۔ یروشلم کا عرب سیکٹر جغرافی اعتبار سے یہاں کے سب سے بہتر اور خوبصورت علاقہ میں واقع ہے۔ یروشلم کی سڑکوں پر چلتے ہوئے مختلف قسم کے مناظر سامنے آئے ۔ دکانوں کے سائن بورڈ میں انگریزی اور عبرانی کے ساتھ عربی زبان کے اندراجات بھی دکھائی دیے ۔ مثلا ٹیلی فون کے ساتھ تلفون وغیرہ۔ سڑک سے گزرتے ہوئے ہم ایک علاقہ میں پہنچے تو میرے گائیڈ نے کہا ، یہ جیوش ایریا ہے۔ جیوش علاقہ واضح طور پر زیادہ صاف اور کشادہ تھا ۔ ایک فرق یہ نظر آیا کہ عرب ایریا میں دکانوں کے آگے لوگ فٹ پاتھ پر کرسیاں بچھائے ہوئے باہر بیٹھے ہیں۔ تجارتی سامان بھی باہر رکھا ہوا تھا۔ مگر یہودی ایریا میں دکانوں کے سامنے نہ کرسی دکھائی دی نہ دکان کے باہر کوئی سامان رکھا ہوا نظر آیا ۔ اسی طرح عرب ایریا میں دکانوں سے عربی گیت کی آواز سنائی دے رہی تھی جب کہ یہودی ایریا میں خاموشی کا منظر تھا۔ اسی خوب صورت عرب سیکٹر کے ایک سرسبز رقبہ میں ہوٹل واقع ہے جس میں میرے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس ہوٹل کا نام (Hotel 7 Arches) ہے۔ اس کے کمرہ نمبر 602 میں میرا قیام تھا۔ میں اس کمرہ کے اندر داخل ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ کمرہ کے ایک طرف کی لمبی دیوار جو پوری کی پوری شیشہ کی تھی ۔ اس کے اوپر حسب قاعدہ پردہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے پردہ ہٹایا تو سامنے کھلی دھوپ میں بیت المقدس کا سنہری رنگ کا گنبد چمک رہا تھا۔ وہ اس ہوٹل سے بہت قریب ہے اور میرے کمرہ کے شیشہ سے بالکل صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میرے دل کی عجیب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page