سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
کیفیت ہوئی ۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے یروشلم میں میرے لیے بیت المقدس اور مسجد اقصی کے عین پڑوس میں قیام کا انتظام فرمایا۔ میں دیر تک بیت المقدس اور اس کے ارد گرد علاقہ کو دیکھتا رہا۔ یہی وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں اَلَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ (17:1) کہا گیا ہے، یعنی اس کے اردگرد کو ہم نے بابرکت بنایا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے اس کی پوری تاریخ مجسم ہو کر میرے سامنے کھڑی ہوئی نظر آئی۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے آ کر اسی مقام پر نماز ادا کی تھی اور پھر وہاں مسجد بنائی گئی تھی۔ 1982ء میں جب میں حج کو گیا تو اکثر بیت اللہ میں داخل ہو کر کعبہ کو دیکھتا رہتا تھا۔ یہاں میں خود اپنے ہوٹل کے کمرہ سے بیت المقدس کو دیکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالی نے میرے لیے یہ سعادت بھی مقدر فرمائی تھی۔ دہلی میں میری رہائش ایک ایسے مکان میں ہے جو گویا نئی دہلی اور پرانی دہلی کے درمیان ہے۔ موجودہ ہوٹل کی نوعیت بھی یہی ہے ۔ اس ہوٹل کے ایک طرف جدید یروشلم کی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف قدیم یروشلم ہے جس میں عرب سیکٹر واقع ہے ۔ ظہر کا وقت ہوا تو مختلف مسجدوں سے اذان کی آوازیں آنے لگیں۔ معلوم ہوا کہ ہندوستان کے شہروں کی طرح یہاں بھی عرب علاقہ کی مسجدوں میں اور خود بیت المقدس میں لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے ہیں اور پانچوں وقت ان سے اذان کی آوازیں فضا میں بلند ہوتی ہیں۔ مجھے تعجب انگیز خوشی ہوئی کہ پچاس سالہ یہود و عرب کے خونیں نزاعات کے باوجود آج بھی یہاں یہ مواقع موجود ہیں کہ مسلمان لاؤڈ اسپیکر پر پانچوں وقت اذان بلند کریں اور مسجدوں میں جمع ہو کر باقاعدہ نماز ادا کریں۔ فلسطین تین بڑے ابراہیمی مذاہب کا مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہود کا اس لیے کہ ان کے خیال کے مطابق وہ براہ راست خدا کی طرف سے انہیں دیا گیا ہے۔ وہ ان کے لیے ارض موعود (Promised Land) ہے، جس کا فیصلہ براہ راست خدا کی طرف سے کیا گیا ہے۔ عیسائیوں کا اس لیے کہ حضرت مسیح یہاں پیدا ہوئے اور اسی سر زمین میں انہوں نے اپنے مشن کی تکمیل کی۔ مسلمانوں کا اس لیے کہ پیغمبر اسلام معراج کے سفر میں یہاں آئے اور ہجرت کے بعد ایک سال سے زیادہ مدت تک بیت المقدس کو اپنی عبادت کا قبلہ بنایا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader