سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
افریقی صحارا کے بڑے حصہ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ تیونس کو اس نے 1881ء میں فتح کیا۔ اسی طرح 1905ء میں مراکو کو اپنی سیاسی ماتحتی میں لے لیا۔ اس وقت اسپین کو بھی مراکو کا ایک حصہ دے دیا گیا تھا۔ نارتھ افریقہ کے علاقہ پر اسی قبضہ کے زمانہ میں دونوں ملکوں میں آمدورفت بڑھی اور بڑی تعداد میں افریقہ کے مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر فرانس میں روزگار کے لیے آگئے ۔ ان لوگوں نے فرانس کو سستامزدور فراہم کیا جس کی اس وقت فرانس کو سخت ضرورت تھی۔ اب یہی لوگ فرانس کے شہری بن کر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس طرح حالات نے مسلمانوں کو اپنے مدعو کے ملک میں پہنچا دیا تھا۔ اگر وہ معاشی حصول کے بعد صرف دعوت کو اپنا نشانہ بناتے تو یہاں ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ اس کی ایک انفرادی مثال ڈاکٹر حمید اللہ صاحب ہیں۔ انہوں نے صرف علمی اور دعوتی دائرہ تک اپنے کو محدود رکھا۔ چنانچہ وہ فرانس میں ایک مقبول شخصیت بن گئے۔ مگر نام نہاد اسلام پسندوں نے کلچرل تشخص اور قومی حقوق کے نام پر فرانسیسیوں سے زور آزمائی شروع کردی۔ اس غلط پالیسی کا یہ نتیجہ تو نہیں نکلا کہ فرانس میں ان مسلمانوں کے قومی مطالبات پورے ہو جائیں۔ البتہ یہ احتجاجی سیاست فرانس میں ان کے خلاف نفرت اور غصہ کی فصل اُگارہی ہے اور اس کے نتیجہ میں دعوت کے مواقع برباد ہو رہے ہیں۔ پیرس میں ایک لڑکی ملی۔ اس نے اپنا نام شازیہ بتایا۔ نام سے اس کی شخصیت واضح نہیں ہورہی تھی ۔ مزید دریافت پر معلوم ہوا کہ اس کا باپ ایک مصری مسلمان ہے۔ اس نے یہاں ایک عیسائی خاتون سے شادی کی ۔ اس خاتون نے اپنا مذہب نہیں بدلا۔ اس کے بعد ان کے یہاں مذکورہ لڑکی (شازیہ) پیدا ہوئی۔ ایک عرصہ بعد مصری مسلمان اور اس کی عیسائی بیوی میں اختلاف ہو گیا۔ بڑھتے بڑھتے دونوں میں طلاق ہو گئی ۔ اب یہ عورت اپنی لڑکی کے ساتھ علیحدہ مکان میں رہتی ہے۔ گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ اصل مسئلہ غالباً یہ تھا کہ شازیہ کا بوائے فرینڈ گھر میں آتا تھا۔ وہ ڈرنک بھی کرنے لگی۔ ان باتوں پر اس کی ماں کو اعتراض نہیں تھا۔ مگر مصری مسلمان سخت اعتراض کرتا تھا۔ فرانس چونکہ ایک مسیحی ملک ہے، بیوی کا پلّہ بھاری ثابت ہوا۔ آخر کار مصری مسلمان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader