Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسطین کا اہم ترین شہر یروشلم ہے۔ اسی کے علاقہ میں تینوں مذاہب کے مقدس مقامات واقع ہیں۔ اس کی تاریخ 14 ویں صدی قبل مسیح تک جاتی ہے جب کہ اس علاقہ پر مصریوں کی حکومت تھی۔ اس کے بعد بار بار اس علاقہ کی حکومت بدلتی رہی۔ اس زمانہ کی تقریبا تمام قومیں ایک کے بعد ایک اس پر حکومت کرتی رہیں یہاں تک کہ ایک ہزار قبل مسیح میں حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت فلسطین و شام کے علاقہ میں قائم ہوئی ۔ جو مزید اضافہ کے ساتھ ان کے صاحب زادہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ تک جاری رہی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے یروشلم کی توسیع کی اور قدیم یہودی عبادت خانہ ( ہیکل ) تعمیر کیا۔ جس کا اب صرف ایک حصہ دیوار گر یہ ( مغربی دیوار ) کی صورت میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان کے بعد مختلف حکمراں یروشلم کو اور معبد کو تباہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سلیمانی ہیکل ایک کھنڈر کی صورت میں باقی رہ گیا۔ 638 میں جب کہ اس علاقہ میں رومیوں کی حکومت تھی، عربوں نے رومیوں کو شکست دے کر فلسطین پر اپنا قبضہ قائم کیا۔ خلیفہ دوم عمر فاروق فاتحانہ طور پر مدینہ سے یروشلم پہنچے ۔ ان کے اس سفر کی یادگار مسجد عمر کی شکل میں آج بھی یروشلم میں کنیسہ قیامہ کے پاس موجود ہے۔ بنو امیہ کی سلطنت کے زمانہ میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مقدس صخرہ کے اوپر ایک گنبد تعمیر کیا جو بیت المقدس (قبۃ الصخرۃ) کے نام سے مشہور ہے۔ خلیفہ عمر فاروق نے اہل فلسطین کے ساتھ نہایت رواداری کا معاملہ فرمایا۔ بحیثیت فاتح وہاں انہوں نے جو تقریر کی تھی اس میں یہ اعلان کیا کہ اے اہل فلسطین! تم کو بھی وہی تمام حقوق حاصل ہوں گے جو اسلامی قانون کے تحت مسلمانوں کو حاصل ہیں ( یا اهل ایلیاء لكم مالنا وعلیکم ما علینا ) ۔ مسلم سلطنتوں کے زمانہ میں خلافت راشدہ کے بعد بھی رواداری کی یہی پالیسی جاری رہی۔ مورخین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ بنوامیہ اور بنو عباس دونوں نے یہودی اور عیسائی باشندوں کے حق میں فراخدلی کی پالیسی اختیار کی: Both the Umayyads and their successors, the Abbasids, pursued a liberal policy towards Christians and Jews. (10:140)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page