سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
عباسی سلطنت کے بعد یہ پالیسی پوری طرح باقی نہ رہ سکی۔ کہا جاتا ہے کہ مصر کے فاطمی خلیفہ نے 1515 میں عیسائیوں کے مقدس مقامات کو توڑنے کی دھمکی دی۔ عیسائی اپنی سابق روایت کے مطابق مختلف مقامات سے جوق در جوق اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ اس سلسلہ میں مقامی طور پر غالباً کچھ ناخوش گوار واقعات ہوئے۔ سلجوقی سلطنت کے زمانہ میں 1071 میں عیسائی زائرین کے راستے بند کر دیے گئے۔ اس سے عیسائیوں کا مذہبی طبقہ بہت زیادہ برانگشتہ ہو گیا۔ اس نے یورپ کے مسیحی حکمرانوں کو غیرت دلائی۔ اس کے نتیجہ میں قدس پر مسیحی قبضہ بحال کرنے کے لیے وہ طویل جنگ شروع ہوئی جو کروسیڈس کے نام سے مشہور ہے۔ ان صلیبی جنگوں کے نتیجہ میں مسیحی حکمران عارضی طور پر یروشلم پر قابض ہو گئے۔ ان کا یہ قبضہ 1099ء سے 1187ء تک باقی رہا۔ اس کے بعد صلاح الدین ایوبی نے ایک فیصلہ کن جنگ میں مسیحی قبضہ کو ختم کرکے دوبارہ قدس پر مسلم سلطنت قائم کی۔ اس کے بعد تھوڑے تھوڑے وقفہ کے لیے چند انقلابات پیش آئے اور آخر میں 1517ء میں عثمانی سلطان سلیم اول نے یہاں ترک حکومت قائم کی جو مسلسل چار سو سال تک باقی رہی۔ 1917ء میں برطانیہ نے لیگ مینڈیٹ کے تحت یروشلم پر سیاسی بالادستی حاصل کر لی۔ 1948ء سے فلسطین کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یروشلم کا نیا دور آیا تو ابتدا میں شہر 1948ء سے 1967ء تک دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک کو اردنی سیکٹر اور دوسرے کو اسرائیلی سیکٹر کہا جاتا تھا۔ جون 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے بقیہ نصف پر قبضہ کرکے پورے یروشلم پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ مصر کے سابق حکمراں جمال عبدالناصر، جو الاخوان المسلمون کی مکمل تائید سے حکومت میں آئے تھے، انہوں نے احمقانہ جوش کے تحت جولائی 1956ء میں نہر سوئز کے پٹہ کو قبل از وقت منسوخ کر دیا اور اس کو سرکاری قبضہ میں لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد حالات میں جو زبردست تبدیلی ہوئی اسی کا نتیجہ تھا کہ یروشلم پورا کا پورا اسرائیلی قبضہ میں چلا گیا۔ بیشتر انسانی تباہیاں ہمیشہ نادانی کے اقدام کے نتیجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader