سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پیش آتی ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الرساله نومبر 1992ء، صفحہ 28)۔ یروشلم میں پہلی عبادت گاہ (ہیکل) حضرت سلیمان نے اپنی بادشاہت کے زمانہ میں بنائی۔ یہ ہیکل 957 ق م میں بن کر تیار ہوا۔ اس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکمران نبو خدنصر (Nebuchadrezzar II) نے لوٹا اور 586 ق م میں اس کو مکمل طور پر ڈھادیا۔ ایک عرصہ کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔ اس دوسری عبادت گاہ (ہیکل) کو بھی رومیوں نے 70ء میں ڈھا کر کھنڈر کر دیا۔ اس عمارت کی صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے جس کو دیوار گر یہ (Wailing Wall) یا مغربی دیوار کہا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یروشلم کی وہ کون سی’’مسجد اقصیٰ‘‘ تھی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء اور معراج کے وقت 622ء میں تمام انبیاء کے ساتھ نماز ادا فرمائی۔ تاریخی شہادت کے مطابق اس وقت وہاں صرف کھنڈر تھا، اس وقت وہاں کوئی’’مسجد‘‘ موجود نہ تھی۔ مگر صحیح بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں جب اپنے اس واقعہ کا اعلان فرمایا تو قریش نے اس پر یقین نہیں کیا۔ اس وقت مکہ میں کچھ ایسے افراد تھے جنہوں نے یروشلم کا سفر کیا تھا اور مسجد کو دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ مسجد کا نقشہ بتا سکتے ہیں۔ رسول اللہ نے نقشہ بتانا شروع کیا تو اس کی بعض چیزوں کے بارے میں آپ مشتبہ ہو گئے۔ اسی وقت مسجد لا کر آپ کے سامنے رکھ دی گئی اور آپ نے دیکھ کر اس کا پورا نقشہ بیان کر دیا۔ قریش نے کہا کہ جہاں تک بیان کرنے کا تعلق ہے انہوں نے ٹھیک بیان کیا (أَمَّا النَّعْتُ فَقَدْ أَصَابَ) اخبار مکہ للفا کہی، حدیث نمبر 2100۔ بخاری کی روایت کے مطابق، 622ء میں وہاں باقاعدہ ’’مسجد‘‘ کی عمارت ہونی چاہیے۔ مگر موجودہ تاریخی شہادتوں سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ اس قابل ہے کہ از سر نو اس کی تحقیق کی جائے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اہل کتاب کی روایت کے مطابق، حضرت یعقوب علیہ السلام جن کو یہودی اسرائیل کہتے ہیں، انہوں نے مسجد اقصیٰ کی بنا ڈالی۔ یہ فلسطین (ایلیا) کی مسجد ہے جس کو بیت المقدس کہا جاتا ہے (البدایہ والنہایہ، جلد 1، صفحہ 162)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader