سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
نام فندق الاقواس ہے۔ جائے وقوع کے اعتبار سے یہ یروشلم کا نمبر ایک ہوٹل ہے۔ اس کے چاروں طرف قدرتی مناظر اور تاریخی نشانیوں کے سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ ہوٹل میں یہودی اور مسلمان بالکل معتدل فضا میں ملتے ہوئے نظر آئے۔ اکثر صباح الخیر، السلام علیکم، حیاک اللہ جیسے عربی الفاظ سنائی دیتے ہیں۔ ہوٹل کی دیواروں پر شیشہ کے فریم میں خوب صورت تصویریں لگی ہوئی ہیں، ان میں متعدد خالص عربوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً ایک بڑے فریم میں بہت سی رنگین تصویریں ہیں۔ اس کے اوپر عربی میں لکھا ہوا ہے: لمحۃ عن الحیاۃ البدویۃ۔ اس میں تصویروں کے ذریعہ بدوی علاقہ کے فلسطینیوں کی زندگی کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس طرح ایک اور فریم دیوار پر نظر سے گزرا۔ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا: التراث الفلسطينی۔ اس میں فلسطینیوں کی بعض تاریخی چیزیں خوب صورت تصویروں کے ذریعہ دکھائی گئی تھیں۔ 27 اگست کو دو پہر بعد میں اپنے ساتھی کے همراه نکلا۔ گاڑی ہم نے ایک جگہ پارک کردی اور عرب سیکٹر کے بہت بڑے علاقہ میں پیدل گھومتے رہے۔ گھنٹوں ادھر سے اُدھر گئے۔ فلسطینی بچے، نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ بالکل معتدل انداز میں اپنا کام کرتے ہوئے نظر آئے۔ ان کے چہروں پر غم یا خوف وہراس نظر نہیں آیا۔ پورے علاقہ میں صرف ایک جگہ تین اسرائیلی فوجی گن لیے ہوئے بیٹھے تھے۔ وہ آپس میں غالباً عبرانی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔ 27 اگست کی صبح کو میں نیچے اترا تو ریسپشن ڈیسک کے پیچھے کھڑے ہوئے خوش پوش نوجوان نے کہا کہ آج آپ کیسے ہیں (How are you today)۔ میں نے کہا کہ فائِن۔ اس نے دوبارہ کہا: الحمد للہ۔ ایک نئی بات یہ نظر آئی کہ یہاں ہوٹل کی خدمات میں عام قاعدہ کے مطابق، لڑکیاں نہیں ہیں بلکہ سارا کام مرد کرتے ہیں۔ کسی بھی شعبہ میں مجھے کوئی خاتون نظر نہیں آئی۔ 27 اگست کی شام کو چار بجے مسٹر انٹینیو (Mr. Antonello Paba) کے ساتھ مقامات مقدسہ دیکھنے کے لیے نکلا۔ کئی کلومیٹر کے دائرہ میں پھیلا ہوا ایک وسیع احاطہ ہے جس کے اندر یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات واقع ہیں۔ راستہ میں ہر جگہ سیاح مردوں اور عورتوں کی بھیڑ نظر آئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader