سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
طویل راستہ طے کرنے کے بعد ہم لوگ مسجد اقصیٰ پہنچے۔ یہ ایک ہی بڑا احاطہ ہے جس کے اندر ایک طرف مسجد اقصیٰ ہے اور دوسری طرف سوقدم کی دوری پر بیت المقدس (قبلۃ الصخرہ) واقع ہے۔ سب سے پہلے میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا۔ یہ بہت بڑی اور بلند و بالا مسجد ہے۔ اس کا اندرونی حصہ ایک طرف سے 110 قدم اور دوسری طرف 85 قدم ہے۔ یہاں میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور دعائیں کیں، کئی آدمی بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد بیت المقدس میں گیا۔ اس کو قبلۃ الصخرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے نیچے درمیان میں پتھر کی ایک چٹان ہے۔ یہ چٹان تقریباً کمر تک اونچی ہے۔ چٹان کے چاروں طرف لکڑی کا کٹہر ابنا دیا گیا ہے۔ کٹہر اور گنبد کی دیوار کے درمیان گول دائرہ میں ایک گیلری ہے۔ میں نے اس گیلری میں چل کر دیکھا تو وہ دوسو قدم تھی۔ اس گیلری میں میں نے دو رکعت نماز ادا کی اور دعائیں مانگیں۔ قبلۃ الصخرہ مسجد نہیں ہے بلکہ چٹان کے اوپر قبہ ہے، اور اس کے باہر کشادہ صحن۔ اس کے بعد میں مسجد عمر بن الخطاب گیا۔ یہ مسجد چھوٹی ہے۔ 25 قدم چوڑی اور 25 قدم لمبی۔ اس کی چھت بھی زیادہ اونچی نہیں ۔ یہاں بھی میں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ مسجد کے بیرونی حصہ میں جدید طرز کے وضو خانے اور غسل خانے بنے ہوئے ہیں۔ مسجد کے پاس ہی کنیستہ القیامہ (Church of Resurrection) ہے جو کافی بڑا ہے۔ اس وقت مجھ پر ایک تحیر کی کیفیت طاری تھی۔ ان مقدس مقامات کی زیارت اور ان میں نماز ادا کرنا مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ زندگی میں کبھی میں یہ سوچ بھی نہیں سکا تھا کہ میں قدس جاؤں گا اور وہاں ایسی جگہ سجدہ کروں گا جہاں پیغمبروں نے اور اصحاب پیغمبر نے سجدے کیے۔ 28 اگست کو صبح کا وقت ہے۔ سورج کی چمک دار روشنی باہر کے پورے ماحول کو منور کیے ہوئے ہے۔ میرے کمرہ کے ”قد دیوار“ شیشوں کے باہر بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی عمارتیں دکھائی دے رہی ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے اندر آپ داخل ہوں تو وہ نہایت عظیم اور پر ہیبت دکھائی دیتی ہے۔ میں نے اتنی پر ہیبت مسجد کوئی اور نہیں دیکھی۔ بیت المقدس کا نقشہ دوسرا ہے۔ اس کا طرز مقبرہ جیسا ہے۔ یعنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader