Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

درمیان میں بڑا سا پتھر، اس کے اوپر اونچا گنبد، اور پتھر کے گرد گول دائرہ میں ایک گیلری۔ کمرہ سے ان تاریخی مناظر کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں قرآن کی یہ آیت آئی: سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ اٰیَاتِنَا اِنَّہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرِ (17:1)۔ یعنی، پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ ان قرآنی الفاظ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ بَارَکْنَا حَوْلَہُ (جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے) سے مراد غالباً اس مقام کا یہ سرزمین نبوت ہے۔ اور لِنُرِیَہُ مِنْ اٰیَاتِنَا (تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو چشم زدن میں مکہ سے 800 کلومیٹر دور یروشلم میں لا کر اس نے آنے والے دور کا تعارف کرایا، جس کو دور مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس غیر معمولی سفر کے ذریعہ اس بات کا ایک مظاہرہ کیا گیا کہ خدا کا دین اب قومی نبوت کے دور سے گزر کر بین الاقوامی نبوت کے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ اب وہ مقامی پیغام رسانی کی محدودیت سے نکل کر عالمی پیغام رسانی کے وسیع تر دائرہ میں پہنچ گیا ہے۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی (17:1)۔ یہ فقرہ اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے ذات نبوت کے بارے میں ہے مگر اسی کے ساتھ اس کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے جس کا تعلق پوری امت محمدی سے ہے۔ پیغمبر اسلام کو ایک لمحے میں 800 کلومیٹر کا دو طرفہ سفر کرانا گویا کہ علامتی طور پر پوری امت کو یہ بتانا تھا کہ اس دین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تیز رفتار سفر کا دور شروع کر دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کو عالمی پیغمبر بنانے کے ساتھ ہی یہ امکان بھی کھول دیا گیا ہے کہ آپ کے امتی بہ سہولت آپ کے دین کی عالمی پیغام رسانی کر سکیں۔ سفر اسراء میں اس بات کا اشارہ تھا کہ اس نئے دور کا سب سے اہم پہلو کمیونی کیشن ہوگا، نہ کہ سیاسی اقتدار۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب یہ دور اپنے عظیم امکانات کے ساتھ ظاہر ہوا تو تمام دنیا کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page