سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمان سیاسی اقتدار کے مسئلے میں الجھ گئے۔ وہ دین خداوندی کی دعوت کو عام کرنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نہ کر سکے۔ اس ناکامی کا اصل سبب حکمت نبوت سے محرومی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے علماء اور دانشور، اس حکمت نبوی سے بالکل بے خبر ہیں جس کی ممتاز مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر اسراء میں پائی جاتی ہے۔ جس وقت آپ کا یہ سفر ہوا، اس وقت یروشلم پر ایک مشرک بادشاہ کی حکومت قائم تھی۔ اس کے باوجود آپ جسدہ الشریف وہاں گئے اور تمام نبیوں کے ساتھ مسجد اقصٰی میں ایک خدا کی عبادت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی ایک سنت الفصل بین القضیتین ہے، یعنی سیاسی ایشو کو الگ کر کے دینی مواقع کو استعمال کرنا۔ مگر اس حکمت سے بے خبر ہونے کی بنا پر ہمارے تمام رہنما سیاسی مسائل میں الجھ گئے اور نئے دینی امکانات کو استعمال کرنے میں ناکام رہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الرسالہ نومبر 1995)۔ 28 اگست کا دن خالی تھا۔ اس لیے آج تفصیل کے ساتھ یروشلم کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ مجھے خاص دلچسپی اس حصہ سے تھی جسے عرب سیکٹر کہا جاتا ہے اور جس میں تمام مقامات مقدسہ واقع ہیں۔ اس علاقہ میں کثرت سے تنگ گلیاں ہیں۔ اس لیے ہم نے گاڑی چھوڑ دی تا کہ اس کے ہر حصہ میں داخل ہو کر اس کو دیکھا جا سکے ۔ ایک چیز بڑی عجیب تھی کہ اس علاقہ کی دیواروں پر کثرت سے عربی زبان میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہ تقریبا ویساہی منظر تھا جو پرانی دہلی کی دیواروں پر پوسٹر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ تمام کے تمام جنگ جو یا نہ نعرے تھے۔ مزید یہ کہ وہ ہاتھ سے بدخط انداز میں لکھے ہوئے تھے اور بمشکل پڑھے جاتے تھے۔ ان راستوں سے مسلسل مرد اور عورت گزر رہے تھے مگر میں نے اپنے سوا کسی کو بھی نہیں پایا جس کو ان نعروں سے کوئی دلچسپی ہو یا وہ ان کو پڑھنے کے لیے ایک لمحہ وہاں رکنا پسند کریں۔ چند نعرے یہ تھے: قاتلو اعداء اللہ الارض لنا و القدس لنا التحية كل التحية لشہداء الخلیل العید لمن مات شہیداً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader