Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

تحیۃ لكل قطرة دم سالت دفاعا تحیۃ الی المتعلقین الابطال ـــ فتح یہ پورا علاقہ تاریخی علاقہ ہے۔ یہاں قدم قدم پر عمارتوں کے اوپر ایسے بورڈ نظر آتے ہیں جو اس کی تاریخی حیثیت کی یاد دلاتے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ ایک عمارت کے گیٹ پر عربی میں لکھا ہوا نظر آیا: مكان مقدس، هنا بدأ يسوع آلاماً۔ ایک پھاٹک پر عبرانی اور انگریزی میں لکھا ہوا تھا: Tomb of the Prophets, Haggai and Meleachi ایک جگہ لکھا ہوا تھا: Birthplace of Virgin Marry ایک جگہ لکھا ہوا تھا: ساحۃ النبی داؤد (En-Nabi Dawoud Squire) مسلم نوعیت کے بورڈ بھی جگہ جگہ دکھائی دیے۔ مثلاً ایک عمارت کے دروازہ پر لکھا ہوا تھا: ادارة الاوقاف والشئون الاسلامية (مدیر اوقات القدس)۔ ایک جگہ لکھا ہوا تھا: جامع الزاوية النقشبندية۔ اس علاقہ میں زیادہ تر دکانیں فلسطینیوں کی ہیں۔ ایک دکان کے آگے بنیان کے اوپر یہ الفاظ چھپے ہوئے تھے: بحبك يا فلسطين (اے فلسطین میں تجھ سے پیار کرتا ہوں)۔ 28 اگست کو دوبارہ میں اپنے ساتھی کے ہمراہ تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے نکلا۔ ہم نے اپنی گاڑی چھوڑ دی تا کہ ہم گلیوں اور تنگ راستوں میں بھی جا سکیں اور زیادہ سے زیادہ مقامات کو دیکھیں ۔ ہم ایک ڈھلوان راستہ پر چل رہے تھے کہ سامنے سے ایک فلسطینی مسلمان آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا جس کی عمر غالباً دس سال ہوگی۔ بچہ اپنے ہاتھ میں زیتون کی شاخیں لیے ہوئے تھا۔ اس نے ایک شاخ مجھ کو اور ایک شاخ میرے ساتھی کو پیش کی۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ زیتون کی شاخ امن کی علامت ہے اور وہ اپنی امن پسندی کے اظہار کے لیے یہ شاخ ہمیں دے رہا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ انسان کی نمائندگی کر رہا ہو اور پوری انسانیت کی طرف سے کہہ رہا ہو کہ ان بے فائدہ جھگڑوں کو بند کرو اور ہمیں امن کے ساتھ رہنے دو۔ 28 اگست کی دوپہر کو ایک اطالوی مسیحی کے ہمراہ کنیستہ القیامہ (Church of Resurrection) دیکھا۔ یہ بہت بڑا ہے اور مسجد عمر سے ملا ہوا ہے۔ اسی کے اندر وہ جگہ ہے جس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page