Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

متعلق عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہاں حضرت مسیح کو سولی دی گئی تھی۔ اس کو مقدس سپیکلکر (Holy Sepulchre) کہا جاتا ہے۔ یہاں عجیب و غریب منظر ہے۔ دیوار سے ملا ہوا حضرت مسیح کا قد آدم مجسمہ ہے۔ اس کے پیچھے صلیب کی لکڑی ہے۔ اس لکڑی کے ساتھ آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں میں کیل ٹھونکی ہوئی ہے جس سے خون نکل رہا ہے۔ گردن میں پھانسی کی رسی ہے۔ آپ کا جسم مردہ کی مانند لٹک رہا ہے۔ اسی کے ساتھ چرچ میں کئی اور مقدس مقامات ہیں۔ وہ مقام جہاں مسیحی عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح کے جسم کو صلیب سے اتار کر رکھا گیا تھا۔ یہاں ایک چبوتراہ ہے جس کو عورتیں چومتی ہوئی نظر آئیں۔ ایک اور مقام ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ تین دن کے بعد حضرت مسیح دوبارہ زندہ ہو کر یہاں نمودار ہو گئے۔ اور یہاں سے پھر آسمان میں چلے گئے۔ 28 اگست کی شام کو دیوار گریہ (Wailing wall) دیکھی۔ یہ مسجد اقصی اور بیت المقدس کے احاطہ کی دیوار سے ملی ہوئی ہے۔ دیوار کے ساتھ ملا ہوا وسیع میدان ہے جس میں ایک رسی تان کر عورت اور مرد کا علاقہ الگ کر دیا گیا ہے۔ بہت سے یہودی مرد اور عورت دیوار کے پاس کھڑے ہو کر پیشانی کے ساتھ دیوار سے چپٹے ہوئے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔ لاطینی زبان میں قبر کے لیے سپیکلکر (sepulchre) کا لفظ ہے۔ یروشلم میں مسیحی عقیدہ کے مطابق ، حضرت مسیح کی جو قبر ہے، اس کو مقدس مزار (Holy Sepulchre) کہا جاتا ہے۔ ایسٹر سے پہلے آنے والے جمعہ کو مسیحی حضرات گڈ فرائڈے کہتے ہیں اور اس کو حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کی یادگار کے طور پر مناتے ہیں۔ ہر سال گڈ فرائڈے کو یروشلم کے مقدّس مزار“ پر بڑی تعداد میں مسیحی لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس میں جو تقریبات کی جاتی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ صلیب کی صورت میں پھانسی کی لکڑی کھڑی کی جاتی ہے۔ اور ایک آدمی اس پر چڑھ کر ڈرامائی انداز میں اپنے آپ کو مصلوب کرتا ہے۔ 28 اگست کو شام کا کھانا ہوٹل ”امریکین کالونی“ میں تھا۔ یہ ایک تاریخی ہوٹل ہے۔ اس کے بیشتر کارکن فلسطینی ہیں۔ اس میں ایک لمبی گیلری ہے جس میں فلسطین کی پچلی تاریخ کو تصویروں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page