سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
صورت میں دکھایا گیا ہے۔ ترکی عہد کی بہت سی تصویریں یہاں خوب صورت فریم میں لگی ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ نمایاں تصویر فلسطین کے ترک حاکم جمال پاشا کی تھی۔ وہ ایک شاندار گھوڑے پر بیٹھے ہیں۔ میں دیر تک اس کو دیکھتا رہا، گھوڑا اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ہے۔ جو شان گھوڑے کی سواری میں ہے وہ کسی بھی دوسری سواری میں نہیں۔ ہم لوگ کھانا کھا چکے تو شیشہ کے گلاس نما برتن میں آئس کریم لا کر سب کے سامنے رکھی گئی۔ میں چمچہ اٹھا کر کھانا چاہتا تھا کہ ہوٹل کا ایک نوجوان کارکن اچانک آیا، اس نے میری آئس کریم اور چمچہ تیزی سے اٹھا لیا اور پھر دوسری آئس کریم اور دوسرا چمچہ لا کر رکھ دیا۔ فوری طور پر میں اس کا راز سمجھ نہ سکا۔ بعد کو معلوم ہوا کہ آئس کریم میں الکحل کی آمیزش تھی۔ نوجوان نے میری صورت سے سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ چنانچہ فوری طور پر اس نے الکحل کے بغیر دوسری آئس کریم تیار کی اور جلدی سے لا کر اس کو میرے سامنے رکھ دیا اور پچھلی آئس کریم کھانے سے مجھ کو بچا لیا۔ اس نوجوان سے مل کر میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ فلسطینی مسلمان ہے اور اس کا نام بہجت ہے۔ میں نے اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔ وہ عربی بولتا تھا اور بظاہر نہایت ذہین اور مستعد نوجوان تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader