Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

یورپ کے ایک تعلیم یافتہ مسیحی جو اکثر یروشلم آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق بہت تھوڑے یہودی ہیں جو مسجد اقصی کو توڑ کر اس کی جگہ سلیمانی ہیکل دوبارہ بنانے کی بات کرتے ہیں۔ بیشتر یہودی اس کے مخالف ہیں۔ مذہبی یہودیوں کے نزدیک دو ہزار سال پہلے جب رومن اس میں داخل ہوئے اور اس کو ڈھادیا یا تو اب یہ جگہ ناپاک ہو چکی ہے۔ مسیح جب آئیں گے تو وہی دوبارہ اس کو پاک کریں گے۔ دوسرے یہ کہ یہودیوں کے یہاں عبادت گاہ کا خاص مقصد سوختنی قربانی پیش کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ یہودی اس قسم کی قربانی کو غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ کبھی نہیں چاہتے کہ ہیکل دوبارہ تعمیر ہو۔ اور وہاں اس قسم کے غیر مہذب کام دوبارہ کیے جانے لگیں۔ عرب علاقہ میں چلتے ہوئے ایک جگہ کچھ فلسطینی بچے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ کورس (chorus) کی صورت میں ایک پر جوش ترانہ (أنشودة حماسية) گا رہے ہیں۔ یہ شعر کی اصطلاح میں ایک ترجیح تھا جس میں ہر چند مصرعوں کے بعد اس شعر کی تکرار ہوتی تھی کہ آؤ ہم جنگ کریں، آؤ ہم جنگ کریں۔ کیوں کہ جنگ ہی رشد و فلاح کا راستہ ہے: هلموا نقاتل هلموا نقاتل فان القتال سبيل الرشاد یہ ترانہ شریعت کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب 8ھ میں دس ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف مارچ کیا تو ایک سردار کی زبان سے نکلا: الْيَوْمَ يَوْمُ الْمُلْحَمَة ( آج گھمسان کی جنگ کا دن ہے ) آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ آج رحمت کا دن ہے (الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَرْحَمَة) الاستيعاب في معرفة الاصحاب، جلد 2 ، صفحہ 597۔ وہ عقل کے خلاف اس لیے ہے کہ موجودہ زمانہ کی تبدیلیوں نے تبدیلیوں نے جنگی اقدامات کے بجائے پرامن جدوجہد کو طاقت کا سرچشمہ بنا دیا ہے۔ میں نے سوچا کہ فلسطینی قیادت ، اگر حدیث ( صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361) کے الفاظ میں اپنے زمانہ سے باخبر (بَصِيرًا بِزَمَانِهِ) ہوتی تو وہ اپنی نئی نسل کو جنگ کے بجائے امن کا سبق دیتی۔ اور آج برعکس طور پر، ہر فلسطینی بچہ کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے : هلموا نسالم هلموا نسالم فان السلام سبيل الرشاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page